السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! کیا فرماتےہیں مفتیان عظام اس مسئلہ کےبارےمیں کہ ایک اکیلی عورت ہے جس کا شوہر فوت ہوگیا ہے،کیا سیکورٹی کے مسائل کی وجہ سے وہ عورت عدت اپنے بھائی کے گھرگزار سکتی ہے؟ مکمل رہنمائی فرماکر ممنون ومشکورفرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً
واضح ہو کہ شوہر کی وفات کے وقت جس گھر میں عورت رہائش پذیر تھی، اس کے لیے اسی گھر میں عدتِ وفات گزارنا شرعاًلازم ہے، چنانچہ بیوہ کے لیے بغیرشرعی عذر کےمحض تنہائی یا معمولی پریشانی کی وجہ سےعدت کے دوران دوسرے گھر منتقل ہونا جائز نہیں۔
البتہ اگر عورت واقعی اکیلی ہو اور اس گھر میں رہنے کی صورت میں جان، عزت و آبرو یا حفاظتی امور کے بارے میں حقیقی خطرہ ہو، اور اس کی حفاظت کے لیے کوئی محرم یا قریبی رشتہ دار اس کے ساتھ رہنے پر آمادہ نہ ہو، تو شدید ضرورت کی وجہ سے اسے اپنے بھائی یا کسی قریبی محرم کے گھر منتقل ہوکر باقی عدت وہاں گزارنے کی گنجائش ہے۔لہٰذا صورت مسئولہ میں بیوہ کو اگرسیکورٹی کامحض وہم یامعمولی خوف ہوتواس صورت میں عدت کے دوران گھر تبدیل کرنے سے احترازلازم ہے۔
کما فی الدر المختار شرح تنویر الابصار: (وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ولا يخرجان منه (إلا أن تخرج أو ينهدم المنزل، أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لا تجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه،(فصل في الحداد، ج:3، ص:536، مط: ایچ ایم سعید کراچی)
وفی الھندیۃ: على المعتدة أن تعتد في المنزل الذي يضاف إليها بالسكنى حال وقوع الفرقة والموت كذا في الكافي. لو كانت زائرة أهلها أو كانت في غير بيتها لأمر حين وقوع الطلاق انتقلت إلى بيت سكناها بلا تأخير وكذا في عدة الوفاة كذا في غاية البيان. إن اضطرت إلى الخروج من بيتها بأن خافت سقوط منزلها أو خافت على مالها أو كان المنزل بأجرة ولا تجد ما تؤديه في أجرته في عدة الوفاة فلا بأس عند ذلك أن تنتقل، وإن كانت تقدر على الأجرة لا تنتقل، وإن كان المنزل لزوجها وقد مات فلها أن تسكن في نصيبها إن كان ما يصيبها من ذلك ما يكتفى به في السكنى وتستتر عن سائر الورثة ممن ليس بمحرم لها كذا في البدائع، وإن كان نصيبها من دار الميت لا يكفيها فأخرجها الورثة من نصيبهم انتقلت كذا في الهداية. لو أسكنوها في نصيبهم بأجرة وهي تقدر على أدائها لا تنتقل كذا في شرح مجمع البحرين لابن الملك. (الباب الرابع عشر في الحداد، ج:1، ص: 535، مط: ماجدیۃ)
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0