گناہ و ناجائز

والد کی حرام آمدنی سے بیٹے کاتعلیم وغیرہ کے لئے خرچ لینے کاحکم

فتوی نمبر :
9987
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

والد کی حرام آمدنی سے بیٹے کاتعلیم وغیرہ کے لئے خرچ لینے کاحکم

السلام علیکم!
میرا کوئی کاروبار نہیں اور میں شادی شدہ ہوں، میرے والدین میری مدد کرتے ہیں خرچ میں، اور میں اسلامک ایجوکیشن حاصل کر رہا ہوں، مجھے یہ معلوم ہے کہ میرے والدین میری مدد حرام مال سے کرتے ہیں، جبکہ میرے پاس اور کوئی صورت نہیں اس کے علاوہ ، لہذا اگر میں حلال پیسوں کے لئے کاروبار شروع کرتا ہو تو پھر میں اپنی تعلیم مکمل نہیں کر سکتا، میں اس کی وجہ سے بہت پریشان رہتا ہوں براہ ِکرم مجھے مشورہ دیں میں کیا کروں؟ کیا میں اپنی تعلیم کے مکمل ہونے تک اپنے والد سے قرض لے کر سکتا ہوں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کے والد کی اگر کل یا غالب آمدنی حرام ہو تو سائل کے لئے اس کا استعمال کرنا یا قرض پر لینا ہر دو امور ناجائز و حرام اور واجب الاحتراز ہیں۔ اس لئے سائل اگر کسی حلال آمدنی والے شخص سے قرض لیکر اپنا تعلیمی سلسلہ مکمل کرے اور بعد میں اس قرض کی ادائیگی کرے تو یہ زیادہ بہتر ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): لو مات الرجل وكسبه من بيع الباذق أو الظلم أو أخذ الرشوة يتورع الورثة، ولا يأخذون منه شيئا اھ (6/ 385)۔
و في الدر المختار: الحرام ينتقل (إلى قوله) و في حظر الأشباه: الحرمة تتعدد مع العلم بها اھ (5/ 98)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد زید جنید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 9987کی تصدیق کریں
0     455
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات