مباحات

عورت کی کمائی گھر والوں کے لیے استعمال کرنا جائز ہے یا نا جائز ؟

فتوی نمبر :
10628
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

عورت کی کمائی گھر والوں کے لیے استعمال کرنا جائز ہے یا نا جائز ؟

عورت کی کمائی گھر والوں کے لیے استعمال کرنا جائز ہے یا نا جائز ؟ مثال کے طور پر میری خالہ ہے یوکے میں وہ مجھے کچھ بھیجتی ہے ، تو کیا میرے لیے اسے استعمال کرنا جائز ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر سائل کی خالہ بخوشی اپنی جائز کمائی سے بطور ہدیہ وغیرہ بھیجتی ہو تو سائل کے لیے اس کو استعمال کرنے میں شرعاً کوئی قباحت نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي مشكاة المصابيح: وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه» . رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى اھ (2/ 889)
و في مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح: (" إلا بطيب نفس ") أي: بأمر أو رضا منه اھ (5/ 1974) واللہ اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محبوب الہي حسين عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 10628کی تصدیق کریں
0     229
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات