احکام نماز

سلام کے ساتھ نماز ختم کرنے کی حکمت

فتوی نمبر :
10681
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / نماز / احکام نماز

سلام کے ساتھ نماز ختم کرنے کی حکمت

۱۔ ہم نماز کے اختتام پر السلام علیکم ورحمۃ اللہ کیوں کہتے ہیں؟ کیا اس وجہ سے ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے سامنے حاضری دینے کے بعد اس سے اجازت لینے کا ارادہ کرتے ہیں؟
۲۔ اگر ایک آدمی سنت ادا نہیں کرتا فقط فرض نماز ادا کرتا ہے تو کیا یہ جائز ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

۱۔ سلام کے ساتھ اختتام نماز کی حکمت علماء نے یہ بیان کی ہے کہ اس میں اشارہ ہے کہ وقتِ نماز میں گویا میں اس عالم سے باہر چلا گیا تھا اور ماسویٰ اللہ سے فارغ ہو کر اس کی درگاہ پہنچ گیا تھا، اس کے بعد اب پھر آیا ہوں اور موافق رسم ہر کسی کو سلام کرتا ہوں، گویا یہ سلام وداع نہیں جیسا کہ سائل نے سمجھا، بلکہ سلام حضور ہے۔
۲۔ بلاعذر سنتِ مؤکدہ کو چھوڑنے کی عادت بنا لینا ناجائز اور نبی علیہ الصلاۃ والسلام کی شفاعت سے محرومی کا بھی سبب ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی صحيح مسلم: عن عبد الله، قال: «من سره أن يلقى الله (إلی قوله) ولو تركتم سنة نبيكم لضللتم اھ (1/ 453)
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله: ويلام) أي يعاتب بالتاء لا يعاقب، كما أفاده في البحر والنهر، لكن في التلويح ترك السنة المؤكدة قريب من الحرام يستحق حرمان الشفاعة، لقوله - عليه الصلاة والسلام -: «من ترك سنني لم ينل شفاعتي» . اهـ. وفي التحرير: إن تاركها يستوجب التضليل واللوم،. اهـ. والمراد الترك بلا عذر على سبيل الإصرار اھ (1/ 104)
وفی الفتاوى الهندية: رجل ترك سنن الصلاة إن لم ير السنن حقا فقد كفر؛ لأنه تركها استخفافا وإن رآها حقا فالصحيح أنه يأثم؛ لأنه جاء الوعيد بالترك. كذا في محيط السرخسي. (1/ 112) واللہ أعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 10681کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات