احکام نماز

پڑوسی اگر بے نمازی ہوں تو کیا ان کا وبال ہم پر پڑتا ہے ؟

فتوی نمبر :
16425
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / نماز / احکام نماز

پڑوسی اگر بے نمازی ہوں تو کیا ان کا وبال ہم پر پڑتا ہے ؟

میرے پڑوسی اکثر بے نمازی ہیں، بار بار اُن کو دعوت دی جاتی ہے، لیکن وہ پھر بھی نماز نہیں پڑھتے، کیا ان کی وجہ سے ہم پر بھی اللہ کی ناراضگی ظاہر ہو سکتی ہے؟ ان حضرات کے لیے کوئی وظیفہ بھی بتائے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کو چاہیے کہ موقع مناسبت سے ان کو نماز کے فضائل سنا کر دعورت دیتا رہے اور ان کو اپنے سے متنفر نہ کرے ان شاء اللہ دعوت کی برکت سے وہ وبال سے محفوظ رہیں گے۔

مأخَذُ الفَتوی

قال اللہ تعالیٰ: ﴿ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ﴾ (النحل: 125٩)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شفیق اللہ امیر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 16425کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات