کیا ظہر اور عصر کی نماز ایک ساتھ جمع کرکے پڑھنا جائز ہے؟ اسی طرح کیا مغرب اور عشاء کی نماز جمع کرکے پڑھنا جائز ہے؟ اس کے متعلق شریعت کا کیا حکم ہے؟
واضح ہو کہ بلا عذر دو (۲) نمازوں کو ایک وقت میں جمع کرنا گناہِ کبیرہ ہے، اس لئے ظہر اور عصر کو یا مغرب اور عشاء کو ایک وقت میں جمع کرکے پڑھنے سے اجتناب لازم ہے، البتہ بیماری یا سفر کی وجہ سے دو (۲) نمازوں کو جمعِ صوری کے ساتھ یعنی ظہر کو اخیر وقت میں اور عصر کو بالکل ابتداءِ وقت میں، اسی طرح مغرب کو اخیر وقت اور عشاء کو بالکل ابتداءِ وقت میں پڑھنا جائز اور درست ہے۔
فی الدر المختار: (ولا جمع بین فرضین فی وقت بعذر) سفر ومطر خلافا للشافعی، وما رواہ محمول علی الجمع فعلا لا وقتا (فان جمع فسد لوقدم) الفرض علی وقتہ (وحرم لو عکس) أی أخرہ عنہ۔ اھ (ج۱، ص۳۸۲) واللہ اعلم بالصواب