احکام نماز

جماعت ہورہی ہو تو فجر کی سنتوں کا کیا حکم ہے؟

فتوی نمبر :
35673
| تاریخ :
2018-10-06
عبادات / نماز / احکام نماز

جماعت ہورہی ہو تو فجر کی سنتوں کا کیا حکم ہے؟

اگرجماعت ہو رہی ہو تو فجر کی سنتیں پڑھی جائیں یا جماعت میں شرکت کی جائے اور اگر رِہ جائیں تو جماعت کے فوراً بعد پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر امام کے سلام پھیرنے سے پہلے پہلے جماعت میں شریک ہونے کی توقع ہو تو سنت پڑھ کر جماعت میں شرکت کی جائے، احادیث مبارکہ میں فجر کی سنتوں کی بہت زیادہ تاکید آئی ہے، اس لیے حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا یہی طرزِ عمل رہا ہے اور اگر سنتیں ادا ہونے تک جماعت نکل جانے کا اندیشہ ہو تو سنت پڑھے بغیر جماعت میں شمولیت اختیار کی جائے کیونکہ جماعت کی اہمیت زیادہ ہے اور اس صورت میں سنت کی قضاء نہیں، البتہ امام محمد رحمہ اللہ کے قول کو ملحوظ رکھتے ہوئے زوال سے قبل پڑھ لینا بہتر ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الصحیح للمسلم: عن عائشہؓ عن النبی – صلی اللہ علیہ و سلم – رکعتا الفجر خیر من الدنیا و ما فیھا اھ (۱/ ۲۵۱)

وکما فی الدر المختار: ( و کذا یکرہ تطوع عند اقامۃ صلاۃ مکتوبۃ ( الی قولہ) الاسنۃ الفجر إن لم یخف فوت جماعتھا و لو بإدراک تشھدھا اھ

و فی الرد المختار: (قلت: لكن قواه في فتح القدير بما سيأتي، من أن من أدرك ركعة من الظهر مثلا فقد أدرك فضل الجماعة وأحرز ثوابها كما نص عليه محمد وفاقا لصاحبيه، وكذا لو أدرك التشهد يكون مدركا لفضيلتها على قولهم. قال: وهذا يعكر على ما قيل إنه لو رجا إدراك التشهد لا يأتي بسنة الفجر على قول محمد. والحق خلافه لنص محمد على ما يناقضه اهـ أي لأن المدار هنا على إدراك فضل الجماعة، وقد اتفقوا على إدراكه بإدراك التشهد، فيأتي بالسنة اتفاقا (إلی قولہ) و قال محمد أحب إلی أن یقضیھا الی الزوال کما فی الدرر قیل ھذا قریب
من الاتفاق ، لان قولہ أحب الی دلیل علی أنہ لو لم یفعل لا لوم علیہ اھ( ۲/ ۵۶)واللہ اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 35673کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات