احکام نماز

حی الصلوٰۃ اور حی علی الفلاح پر کھڑے ہونے کا حکم

فتوی نمبر :
21144
| تاریخ :
عبادات / نماز / احکام نماز

حی الصلوٰۃ اور حی علی الفلاح پر کھڑے ہونے کا حکم

کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ فرض نمازوں میں اقامت کے دوران ’’حی علی الصلوٰۃ اور حی علی الفلاح‘‘ پر کھڑے ہونے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ براہ کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں فقہ حنفی کے مطابق جواب عنایت فرمائیں۔ اگر اس کے بارے میں حدیث اور فقہی کتب کے حوالہ بھی دے دیں تو نوازش ہوگی۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں مقتدیوں کا شروع اقامت کے وقت کھڑا ہونا یا حیعلتان کے وقت ، دونوں امر ثابت و جائز ہیں۔ اختلاف محض اولویت وافضلیت کا ہے، اس لیے موقع بموقع دونوں پر عمل جائز ہے، مگر دوسری صورت پر عمل کرنے سے عموماً صفوں میں خلا رہ جاتاہے نمازیوں کی کثرت کی وجہ سے تکبیر اولیٰ فوت ہونے کا بھی اندیشہ ہوتا ہے۔
نیز مطلقاً ایک جائز امر کو اہل بدعت نے واجب و فرض کا مقام دے دیا ہے، اس کے خلاف کرنے والوں کو نہ صرف ترچھی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے، بلکہ بعض مقامات پر تو اُسے ڈانٹ بھی دیا جاتا ہے۔ اور جب کسی مستحب عمل کے ساتھ اس طرح واجب و فرض والا معاملہ کیا جاتا ہے تو وہ بلاشبہ بدعت بن جاتا ہے، اس لیے علماء متاخرین کے نزدیک شروع اقامت کے وقت کھڑا ہونا افضل ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی سنن الترمذي؛ وروي عن عمر: أنه كان يوكل رجالا بإقامة الصفوف، ولا يكبر حتى يخبر أن الصفوف قد استوت. (1/ 302)
و فی سنن الترمذی: وروي عن عمر: " أنه كان يوكل رجالا بإقامة الصفوف، ولا يكبر حتى يخبر أن الصفوف قد استوت. وروي عن علي، وعثمان، أنهما كانا يتعاهدان ذلك، ويقولان: «استووا»، وكان علي يقول: " تقدم يا فلان، تأخر يا فلان۔(1/ 439)
الدر المختار: (والقيام) لإمام ومؤتم (حين قيل حي على الفلاح)۔(1/ 479)
و فی الدر المختار: وسجدة الشكر: مستحبة به يفتى لكنها تكره بعد الصلاة لأن الجهلة يعتقدونها سنة أو واجبة وكل مباح يؤدي إليه فمكروه۔
و فی رد المحتار: تحت (قوله فمكروه) الظاهر أنها تحريمية لأنه يدخل في الدين ما ليس منه ط. (2/ 120،119)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
افتخار اختر علی شاہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 21144کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات