احکام نماز

جمع بین الصلاتین یعنی 2 نمازوں کو ملاکر ایک ہی وقت میں پڑھنا

فتوی نمبر :
21852
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / نماز / احکام نماز

جمع بین الصلاتین یعنی 2 نمازوں کو ملاکر ایک ہی وقت میں پڑھنا

مسئلہ" جمع بین الصلوٰتین" پیش ہے ،جس کی بنا پر پہت سارے لوگ اس الجھن میں ہیں کہ یہ جائز ہے یا نا جائز ؟ اور بعض لوگ اس کو بارش او ر سفر سے مختص کرتے ہیں ، برائے مہربانی قرآن اور حدیث کی روشنی میں مسئلہ واضح کریں ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

حج کے دوران مزدلفہ اور عرفات کے علاوہ مقامات میں دو فرض نمازوں کو ایک وقت میں جمع کر کے پڑھنا ناجائز ہے ، اس لیے کہ اللہ تعالی نے تمام نمازوں کو اپنے اپنے وقت پر پڑھنے کاحکم دیا ہے ،البتہ ہاں اگر ایک وقت کی نماز مثلاً ظہر کو اپنے آخری وقت میں اس طرح پڑھے کہ فارغ ہونے کے بعد عصرکا وقت داخل ہو اور ابتداء وقت میں عصر پڑھ لے تو اس کی گنجائش ہے اور یہ "جمع صوری" کہلاتی ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار : (ولا جمع بين فرضين في وقت بعذر) سفر ومطر خلافا للشافعي، وما رواهمحمول على الجمع فعلا لا وقتا (فإن جمع فسد لو قدم) الفرض على وقته (وحرم لو عكس) أي أخره عنه (وإن صح) بطريق القضاء (إلا لحاج بعرفة ومزدلفة) كما سيجيء. اھ (1/381۔382)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 21852کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات