السلام علیکم! میں جاننا چاہتا ہوں کہ میں ایک کال سنٹر میں ملازمت کرتا ہوں،میری ڈیوٹی ظہر کے چار بچے سے رات کے ایک بجے تک ہے، میرا مسئلہ یہ ہےکہ میں عصر، مغرب، عشاء کی نمازیں باجماعت نہیں پڑھ سکتا، کیونکہ میری ڈیوٹی کال کو اٹینڈ کرنا ہے اور ہمارا آفس کا سٹاف بہت کم ہے، ہم باجماعت نماز نہیں پڑھ سکتے تو شریعت مطہرہ میں میرے لیے کیا حکم ہے؟ کیا میں گناہ گار ہوں؟
اگر جماعت کے لیے چلے جانے کی صورت میں وقعۃً نقصان کا اندیشہ ہو اور کوئی دوسرا متبادل آدمی موجود نہ ہو تو کال سینٹر میں ہی نماز کا اہتمام کرے اور دوسرے ساتھی موجود ہوں تو جماعت کا خیال رکھے مستقل ترک جماعت کا معمول نہ بنائے۔
ففی حاشية ابن عابدين: (قوله وليس للخاص أن يعمل لغيره) بل ولا أن يصلي النافلة. قال في التتارخانية: وفي فتاوى الفضلي وإذا استأجر رجلا يوما يعمل كذا فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة وفي فتاوى سمرقند: وقد قال بعض مشايخنا له أن يؤدي السنة أيضا. واتفقوا أنه لا يؤدي نفلا وعليه الفتوى. (6/ 70)
وفی مشكاة المصابيح: وعن أبي موسى الأشعري قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «اثنان فما فوقهما جماعة» . رواه ابن ماجه اھ (1/ 339)