مفتی صاحب! میرا سوال یہ ہے کہ پیشانی پر جو نشان بن جاتا ہے، جس کو نماز کا نشان کہا جاتا ہے اور بہت سی باتیں اس نشان سے منسوب ہیں، اس کی کیا حقیقت ہے؟ قرآن وسنت کی روشنی میں واضح فرما دیں۔
یہ محض ایک نشانی ہے، جو بعض دفعہ سجدہ میں زیادہ سر رکھنے وغیرہ کی وجہ سے بن جاتا ہے، اس کی یہی حقیقت ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔
ففی تفسير الخازن: ﴿سِيماهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ﴾ وقيل: هو أثر التراب على الجباه لأنهم كانوا يصلّون على التراب لا على الأثواب اھ (4/ 172)