احکام نماز

پیشانی پر بننے والے نشان کی حقیقت

فتوی نمبر :
15614
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / نماز / احکام نماز

پیشانی پر بننے والے نشان کی حقیقت

مفتی صاحب! میرا سوال یہ ہے کہ پیشانی پر جو نشان بن جاتا ہے، جس کو نماز کا نشان کہا جاتا ہے اور بہت سی باتیں اس نشان سے منسوب ہیں، اس کی کیا حقیقت ہے؟ قرآن وسنت کی روشنی میں واضح فرما دیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

یہ محض ایک نشانی ہے، جو بعض دفعہ سجدہ میں زیادہ سر رکھنے وغیرہ کی وجہ سے بن جاتا ہے، اس کی یہی حقیقت ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی تفسير الخازن: ﴿سِيماهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ﴾ وقيل: هو أثر التراب على الجباه لأنهم كانوا يصلّون على التراب لا على الأثواب اھ (4/ 172)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
آفتاب عبد الغفار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 15614کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات