کیا ۲۹-۹- ۲۰۱۳ء کی فجر کی قضاء اُسی دن ظہر کی نماز ادا کرنے کے بعد یا عصر یا مغرب یا عشاء کی نماز ادا کرنے کے بعد پڑھی جا سکتی ہے یا پھر دوسرے دن پڑھی جائے؟
اگر آدمی صاحبِ ترتیب ہو اور اس کے ذمہ کوئی نماز نہ ہو تو اس پر ’’۲۹‘‘ تاریخ کی فجر کی نماز اسی دن ظہر سے پہلے لوٹانا لازم تھی اور اگر اس کے ذمہ چھ سے زائد نمازیں ہونے کی وجہ سے ترتیب ساقط ہو گئی ہو تو وہ اس دن یا کسی بھی نماز کے بعد فوت شدہ نماز لوٹایا جا سکتا ہے۔
ففی الفتاوى الهندية: الترتيب بين الفائتة والوقتية وبين الفوائت مستحق اھ (1/ 121)
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله كثرت الفوائت إلخ) مثاله: لو فاته صلاة الخميس والجمعة والسبت فإذا قضاها لا بد من التعيين (إلی قوله) ولا يضره عكس الترتيب لسقوطه بكثرة الفوائت. وقيل لا يلزمه التعيين اھ (2/ 76)