سوال یہ ہے کہ میرا دوست جو غیر مقلد (اہلِ حدیث) ہے، وہ یہ کہتا ہے کہ تم حدیث کے مطابق نماز نہیں پڑھتے اور اللہ کے نبی کی جگہ امام ابوحنیفہؒ کی پیروی کرتے ہو اور تم امام ابوحنیفہؒ کے مقلد ہو۔ براہِ مہربانی مجھے قرآن وحدیث کی روشنی میں نماز حنفی بتائیں۔
الحمد للہ احناف جس طریقے سے نماز ادا کرتے ہیں وہ قرآن وسنت سے ثابت اور دوتہائی عالم میں خلفاً عن سلف رائج اور معمول بہا ہے، اس طریقہ کو خلافِ حدیث کہنا احادیثِ مبارکہ سے جہالت پر مبنی ہے، جبکہ غیر مقلدین جو ملکہ برطانیہ کے دور کی پیداوار ہے ان کے پیدائش کی غرض ہی مسلمانو کو فرائض شرعیہ اور ارکاناسلام مثل نماز وغیرہ میں شکوک اور ذہنی انتشار پیدا کرنا اور ائمہ اسلاف سے برگشتگی اور عوام اہلِ اسلام کو ان کے متعلق بے اعتبار بنانا ہے، ان کی اس قسم کی بےہودہ باتوں سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، اس سلسلہ میں درج ذیل کتب ’’رسول اکرم کی نماز‘‘ مؤلفہ مولانا جمیل احمد نذیری، ’’مسائلِ نماز‘‘ مؤلفہ مولانا حبیب الرحمٰن اعظمی اور ’’نمازِ مسنون‘‘ مؤلفہ مولانا صوفی عبد الحمید سواتی اور ’’مجموعہ رسائل‘‘ مولانا آمین صفدر وغیرہ کا مطالعہ مفید رہےگا۔
جہاں تک تقلید کا تعلق ہے تو اسلسلہ میں بھی آپ کے مذکور دوست نے تعبیر میں انتہائی بدیانتی کا مظاہرہ کیا ہے وہ تقلید کے معاملہ میں خود بہت بڑے مغالطہ میں مبتلا ہے، اس لیے کہ احناف امام اعظم ابوحنیفہؒ کی پیروی نبی کی جگہ پر نہیں کرتے، نبی کریمﷺ کی قابل تشریح احادیث مبارکہ وارشادات عالیہ پر اس تفسیر وتشریح کی رو سے عمل کرتے ہیں جو امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے فرمائی ہے اور یہ بالکل ایسا ہے جیسا کہ قرآنی آیات پر عمل کرنے میں ہم محدّثین کی تشریحات اور حدیثوں کی حیثیت کو یہ صحیح ہے یا ضعیف اور موضوعی وغیرہ کے سلسلہ میں اُن کی آراءپر اعتماد کرتے ہیں، اس لیے اگر کوئی شخص کسی آیت سے متعلق کسی مفسّر کی رائے یا کسی حدیث کی تشریح میں علامہ ابن حجر اور امام نووی وغیرہ کی رائے پیش کرے اور دوسرا شخص اسے وہی کہے جو سائل کے دوست نے اسے کہا تو بہت بڑے مغالطہ کا شکار سمجھا جائےگا، اسی طرح قرآن وسنت کی نصوص سے مستنبط فقہی سائل بارے میں مذکور قسم کے جملے بولنا اس سے بھی بڑا مغالطہ بلکہ شیطانی دھوکہ ہے۔