میں نے حج کے دوران سیکھا ہے کہ اگر ہم تہجد میں حضرت محمدﷺ کی طرح قرآن پڑھنا چاہتے ہیں تو جب ہمیں قرآن زبانی یاد نہ ہو تو ہم قرآن ہاتھ میں پکڑ سکتے ہیں؟ کیا یہ حقیقت ہے میں اس طرح کرنا شروع کر چکا ہوں اور تہجد کی آٹھ رکعت میں روزانہ ایک بارہ مکمل کر لیتا ہوں، اسی طرح میں فرض نماز میں بھی قرآن پکڑنا اور فجر میں سورہ رحمان اور واقعہ جیسی سورتیں پڑھنا شروع کر چکا ہوں، لیکن اب میرے علم میں آیا ہے کہ ہم نماز کے دوران ہاتھوں میں قرآن نہیں پکڑ سکتے ۔ کیا یہ سچ ہے۔ برائے مہرانی جلد میری مدد کیجیے۔
کسی بھی صحیح یا ضعیف حدیث سے نبی کریم ﷺ کا قرآن ہاتھ میں پکڑ کر تہجد پڑھنا ثابت نہیں، اس لیے سائل کی مذکور سوچ درست نہیں، جبکہ قرآن کریم ہاتھ میں لے کر اس کے اوراق پلٹنا عمل کثیر ہے جو فسادِ نماز کا باعث ہے، اس لیے اس سے احتراز لازم ہے۔
ففی الدرالمختار: (وقراءته من مصحف أي ما فيه قرآن (مطلقا)
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله مطلقا) أي قليلا أو كثيرا، إماما أو منفردا، أميا لا يمكنه القراءة إلا منه أو لا اھ(1/ 624)