مباحات

فرض نماز کے بعد سر پر ہاتھ رکھ کر دُعا پڑھنا

فتوی نمبر :
11264
| تاریخ :
2011-04-28
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

فرض نماز کے بعد سر پر ہاتھ رکھ کر دُعا پڑھنا

ہمارے محلے میں ایک حاجی صاحب ہے، اور وہ ہمارے محلے کی مسجد میں نماز پڑھتے ہیں، وہ ہر فرض نماز کے بعد جیسے ہی امام صاحب سلام پھیرتے ہیں ، تو وہ اپنے سیدھے ہاتھ کو اپنے ماتھے پر رکھ کر کچھ پڑھتے ہیں، ایک دن میں نے اُن سے پوچھا کہ آپ یہ کیا پڑھتے ہیں؟ تو انہوں نے مجھے کہا کہ کوئی بھی دُعا پڑھ سکتے ہیں اور یہ ایک مسنون عمل ہے کہ کوئی بھی دُعا پڑھے, انہوں نے کہا کہ ’’اللہم انی ظلمت نفسی‘‘ والی دُعا پڑھتا ہوں۔
میرا سوال یہ ہے کہ کیا نماز کے بعد ماتھے پر ہاتھ رکھ کر ایسے دُعا پڑھنا سنت ہے؟ اور اگر سنت ہے تو اس کا کوئی حوالہ بھی بتا دیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

فرض نماز کے بعد کوئی بھی دُعا سر پر ہاتھ رکھ کر پڑھنا مسنون نہیں جیسا کہ شخص مذکور کا خیال ہے، بلکہ اس موقع کی ایک دعا ہے وہ یہ ہے، ’’بِسْمِ الله الَّذِي لاَ إِلٰهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ أَذْهِبْ عَنِّي الْهَمَّ وَالْحَزَنَ ‘‘یا ’’بِسْمِ اللہِ الّذِیْ لَا إِلٰهَ غَیْرُهُ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ، اللَّهُمَّ أَذْهِبْ عَنِّي الْهَمَّ وَالْحَزَنَ‘‘ اس کے علاوہ کوئی دُعا احادیث سے ثابت نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی كنز العمال: "كان إذا صلى مسح بيده اليمنى على رأسه ويقول: بسم الله الذي لا إله غيره الرحمن الرحيم، اللهم أذهب عني الهم والحزن" اھ(7/ 53)
وفی الطبرانی والبزار وابن سنی: ولفظ ابن سنی أشهد ان لا إله إلا هو الرحمن الرحيم، أذهب عني الهم والحزن اھ (بحوالہ امداد الاحکام) (329/1)واللہ أعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 11264کی تصدیق کریں
0     909
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات