گناہ و ناجائز

گناہوں کی وجہ سے نا اُمید ہونا

فتوی نمبر :
11923
| تاریخ :
0000-00-00
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

گناہوں کی وجہ سے نا اُمید ہونا

آج سے پہلے میرا دل اکثر اوقات اللہ اور اسلام کے بارے میں سوچتا رہتا تھا، لیکن اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اللہ کا خوف میرے دل میں نہیں ہے، میں نے پڑھا ہے کہ ”اگر کوئی مسلسل دو جمعہ تک دعا نہیں کرتا تو اس کا دل ناپاک ہو جاتا ہے“ (گنا ہوں سے بھر جاتا ہے)، میں اس سے کس طرح چھٹکارا حاصل کروں اور کیا چیز پڑھوں؟
میرے دل میں اب بھی کسی جگہ تھوڑا سا اللہ پر یقین موجود ہے، میں پہلے ایک بینک میں کام کر رہا تھا، لیکن حال ہی میں بینک چھوڑ دیا ہے، کیا یہ میری نوکری (بینک) کیوجہ سے ہے کہ میں صحیح راستے سے دور ہو گیا ہوں اور اللہ مجھ سے ناراض ہے؟ مہر بانی فرما کر رہنمائی فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کو چاہیے کہ اللہ سے نا اُمید نہ ہو اور اپنے گناہوں پر بصدقِ دل توبہ و استغفار کرے۔
جبکہ بینک کی نوکری اگر نا جائز بھی ہو، تب بھی جب چھوڑ دی گئی تو ایک گناہ سے چھٹکارہ مل گیا، اب بلاوجہ شکوک و شبہات میں پڑھ کر اپنا وقت ضائع نہ کرے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما في سنن أبي داود: عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: (جاءه ناس من أصحابه فقالوا: يا رسول الله! نجد فی أنفسنا الشيء نعظم أن نتكلم به، أو الكلام به، ما نحب أن لنا وأنا تكلمنا به، قال: أوقد وجدتموه؟ قالوا: نعم، قال: ذاك صريح الإيمان)اھ (2/349)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 11923کی تصدیق کریں
0     483
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات