محترم جناب مفتی صاحب! السلام علیکم!
کیا میں زلزلہ کے خوف سے اپنے گھر والوں کو دوسرے شہر یا ملک منتقل کرا سکتا ہوں؟ میں نے پہلے بھی یہ سوال پوچھا تھا،لیکن جواب نہیں ملا۔ براہ ِکرم شریعت کی رُو سے جواب ارسال فرمائیں۔
واضح ہو کہ زندگی کے جتنے لمحات مقدر ہیں وہ بہر حال پورے ہونے ہیں، تاہم احتیاط کےدرجہ میں اگر کوئی شخص مسلسل زلزلہ آنے کی وجہ سے اس علاقہ کو چھوڑ کر کسی دوسرے مقام اور علاقہ میں سکونت اختیار کرلے تو اس کا یہ عمل شرعاً ممنوع اور ناجائز بھی نہیں، لہٰذا اگر سائل اپنے گھروالوں کو کسی دوسرے مقام پر منتقل کرنا چاہتا ہو تو اس کا یہ عمل جائز اور درست ہے۔
ففی الدر المختار: ( أخذته الزلزلة في بيته ففر إلى الفضاء لا يكره ) بل يستحق لفرار النبي صلى الله عليه وسلم عن الحائط المائل اه (6/ 756) والله أعلم بالصواب!