اگر کوئی مسلمان حضور علیہ السلام کی شان میں کفریہ کلمات کہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ مرتد ہو جاتاہے۔پھر وہی شخص اگر خلوص دل سے نادم ہو اور جو کہا ہے، اس پر پشیمان ہو تو اس کا کیا حکم ہے ؟ اس کی توبہ کی کیا شرائط ہونگی ؟ کیا ایسا شخص اپنے آپ کو قاضی کے پاس پیش کریگا اور اپنے آپ کو موت کیلیے پیش کرے، کیا اس صورت میں اس کی توبہ قبول ہو گی یا تنہائی میں اللہ تعالیٰ سے توبہ اور معافی مانگے؟
ایسا شحص اگر چہ بہت سخت گناہ گار اور تائب نہ ہونے کی صورت میں واجب القتل ہے، تاہم اگر یہ بھی سچے دل سے اور پوری ندامت کیساتھ توبہ کرے تو امید ہے اللہ تعالیٰ اس کو معاف فرمادیں۔
کما فی الدر المختار: من نقص مقام الرسالة بقوله بأن سبه - صلى الله عليه وسلم - أو بفعله بأن بغضه بقلبه قتل حدا كما مر التصريح به، لكن صرح في آخر الشفاء بأن حكمه كالمرتد، ومفاده قبول التوبة- (4 / 232)
و فی حاشية ابن عابدين (رد المحتار): فهذا كلام الشفاء صريح في أن مذهب أبي حنيفة وأصحابه القول بقبول التوبة- (4 / 233) واللہ أعلم بالصواب!
آپ علیہ السلام نور ہیں یا بشر؟ اور کیاآپ علیہ السلام اللہ کے نور سے پیدا شدہ ہیں؟
یونیکوڈ رسالت و نبوت 0