مباحات

ورک شاپ میں پھینکی گئی لکڑیوں کواپنے گھر لانے کا حکم

فتوی نمبر :
17104
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

ورک شاپ میں پھینکی گئی لکڑیوں کواپنے گھر لانے کا حکم

میں ریلوے میں کام کرتا ہوں، ہماری ور کشاپ میں باہر ممالک سے چیزیں لکڑی کے ڈبوں میں بند ہو کر آتی ہیں، ان ڈبوں کو توڑنے کے بعد ورکشاپ میں پھینک دیا جاتا ہے ، کام کرنے والے لوگ ان لکڑیوں کو چائے وغیرہ بنانے کے لیے جلاتے ہیں۔ کیا ان لکڑیوں کو میں اپنے گھر لا سکتا ہوں کرسیاں وغیرہ بنانے کے لیے ؟ براہ کرم رہنمائی فرمائیں ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر یہ لکڑیاں یوں ہی بے کار پڑی رہتی ہوں اور ادارہ کی طرف سے کسی قسم کی پوچھ گچھ نہ ہوتی ہو، بلکہ اسے سب کے لیے مباح سمجھا جاتا ہو تو ان کو گھر لا کر استعمال کرنا بھی جائز ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي الدر المختار: حطب وجد في الماء، إن له قيمة فلقطة وإلا فحلال لآخذه) كسائر المباحات الأصلية درر اھ (4/ 284)
وفي حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله: إن له قيمة فلقطة) وقيل: إنه كالتفاح الذي يجده في الماء. وذكر في شرح الوهبانية ضابطا، وهو أن ما لا يسرع إليه الفساد ولا يعتاد رميه كحطب وخشب فهو لقطة إن كانت له قيمة ولو جمعه من أماكن متفرقة في الصحيح اھ (4/ 284) والله أعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عطاء الرحمن عبد الرحمن عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 17104کی تصدیق کریں
0     234
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات