مباحات

بلی پالنا اور اس کے کھانے پینے کا انتظام کرنا کیسا ہے؟

فتوی نمبر :
17855
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

بلی پالنا اور اس کے کھانے پینے کا انتظام کرنا کیسا ہے؟

مہربانی فرما کر قرآن و سنت کے روشنی میں راہ نمائی فرمائیں کیا مسلمان کے لیے یہ بات جائز ہے کہ وہ بلی پالتو جانور کے طور پر رکھ لے۔ براہ کرم یہ بھی بتائیں کہ وہ بلی جن کو مسلمان اگر چہ پالتے تو نہیں، لیکن اکثر گھروں میں آجاتی ہے اور مسلمان لوگ ان بلیوں کے لیے کھانے پینے کی بچی ہوئی چیزیں رکھ دیتے ہیں۔ مثلاً دودھ وغیرہ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

بلیوں کا پالنا درست ہے، اس طرح جو بلی ویسے ہی گھر پر آجائیں ان کو کھانے پینے کی بچی ہوئی اشیاء کھلانا بھی جائز ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي مشكاة المصابيح: وعن كبشة بنت كعب بن مالك وكانت تحت ابن أبي قتادة: أن أبا قتادة دخل فسكبت له وضوءا فجاءت هرة تشرب منه فأصغى لها الإناء حتى شربت قالت كبشة فرآني أنظر إليه فقال أتعجبين يا ابنة أخي فقلت نعم فقال إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «إنها ليست بنجس إنها من الطوافين عليكم والطوافات» . رواه مالك وأحمد والترمذي (1/ 150)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 17855کی تصدیق کریں
0     45
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات