میرا سوال یہ ہے کہ ناخن تراشتے کا خاص طریقہ جو ڈاکٹر عبد الحی نو ر اللہ مرقدہٗ کی تصنیف کردہ کتاب "اسوہ رسول ﷺ میں موجود ہے ، سنت ہے یا مستحب ؟ ہمیں کیا عقیدہ رکھنا چاہیے ؟جبکہ کتاب '' بکھرے موتی '' میں اس کے مستحب ہونے کی نفی ہے ۔ براہ مہربانی یہ اشکا ل دور فرمائیں ۔
واضح ہو کہ ہفتہ میں ایک مرتبہ جمعہ یا جمعرات کو ناخن تراشنا نبی کریم ﷺ کے عمل سے ثابت ہے ، جبکہ اس کا کوئی مخصوص طریقہ کسی حدیث سے ثابت نہیں ،اس لیے اس مخصوص طریقہ کو مسنون سمجھنا اور اس کا اعتقاد رکھنا درست نہیں ، البتہ یہ طریقہ حدیث '' ابد ءو ا بالمیامن'' کی وجہ سے ہمارے اسلاف کا پسندیدہ ہے، اس لیے اس طریقہ پر عمل کرنا پسندیدہ اور حدیث پر عمل کرنا ہے ۔
جبکہ ''ڈاکٹر عبد الحی کی کتاب ''اسوہ رسول ﷺ ''میں صرف ناخن راشنے کو مستحب قرار دیا گیا نہ کہ مذکور طریقہ کو اور ''بکھرے موتی "میں مذکور مخصوص طریقہ کے مستحب ہونے کی نفی ہے ، اس لیے کوئی اشکا ل بھی نہیں ۔
فی الدر المختار وحاشية ابن عابدين: (ويستحب قلم أظافيره يوم الجمعة) ( الی قوله) وفي الحديث «من قلم أظافيره يوم الجمعة أعاذه الله من البلايا إلى الجمعة الأخرى وزيادة ثلاثة أيام - (6 / 405)
وفی بذل المجھود: تحت حدیث عائشة عشر من الفطرة: و فص اﻷظفار ﺃی تقلیمھا و تحصل سنیتھا بأی کیفیة کانت وﺃولاھا ﺃن یبدﺃ بمسبحة الیمنی ثم الوسطی ثم البنصر ثم الخنصر ثم الإبھام (ﺇلی قوله) قال شیخنا ﺃنه باطل وکذا قال السیوطی قد أنکر الإمام إبن رقیق العید جمیع ھذہ الابیات و قال لاتعتبر ھیئة مخصوصة و ھذا الا ﺃصل له فی الشریعة۔ (1/33) والله أعلم بالصواب!