کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زلفیں رکھنا شرعاً درست ہے یا غلط؟براہ ِکرم وضاحت فرمائیں۔
زلفیں رکھنا سنت ہے اور آپ ﷺ سے کان کے آدھے تک، کان کی لو تک اور کاندھوں تک تینوں طریق سے زلفیں رکھنا ثابت ہے ، جنہیں عربی میں لُمہ، جمّہ، وَفرہ سے تعبیر کیا جاتا ہے، البتہ بچوں کی تربیت اور نظافت کی غرض سے ان کے سرمنڈوانا افضل، بلکہ غلبۂ فساد کی وجہ سے ضروری ہے۔
ففی الشمائل المحمدية للترمذي: عَنْ أنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: ’’كَانَ شَعْرُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى نِصْفِ أُذُنَيْهِ‘‘اھ(ص: 47)۔
و فی سنن أبي داود: عن علي رضي الله عنه، أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال: ’’من ترك موضع شعرة من جنابة لم يغسلها فعل بها كذا و كذا من النار‘‘ قال علي: فمن ثم عاديت رأسي، فمن ثم عاديت رأسي ، ثلاثا، و كان يجز شعره اھ (1/ 65)۔