کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا نام فاریہ ہے اور میں ایک مسلم دیوبند گھبرانے سے تعلق رکھتی ہوں، میں نے پچھلے کئی سالوں سے اپنے سیدھے ہاتھ میں ایک کڑا (اسٹیل کا بناہوا) پہنی ہوئی ہوں اس کڑے پر ’’نادِ علی‘‘ لکھا ہوا ہے میری بہو کو اس پر اعتراض ہے کیوں کہ اُن کا کہنا ہے کہ یہ اہل تشیع لوگوں کی روایت ہے مجھے یہ کڑا بہت پسند ہے کیوں کہ ’’نادِ علی‘‘اللہ اور اس کے نائب (ﷺ) کا ہوتا ہے مجھے یہ بتا کرنا تھا کہ آیا نادِ علی صرف شیعوں سے منسلک ہے اور اس کا پڑھنا گناہ ہےہمارے مکاتب فکر کی روشنی میں بیان کریں مہربانی اور نادِ علی کی حقیقت کیا ہے؟ آپ کے جواب کی منتظر ۔
اس میں شک نہیں کہ اس طرح کے کڑوں کا استعمال اکثر شیعوں کا وطیرہ ہے، تاہم اگر ان کا شعار نہ بھی ہو تب بھی اس لکھے ہوئے کڑے کو عموماً باتھ روم وغیرہ میں لے جانے کی ضرورت پیش آتی ہے، اس لیے سائلہ کو چاہیے کہ آئندہ کےلیے اس سے احتراز کرے۔
ففی مشكاة المصابيح: قال : قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - : "من تشبه بقوم فهو منهم" . رواه أحمد وأبو داود- (2 / 487)
و فی مرقاة المفاتيح: عن ابن عمر رضي الله تعالى عنهما قال قال رسول الله- صلى الله عليه وسلم- من تشبه بقوم أي من شبه نفسه بالكفار مثلا في اللباس وغيره أو بالفساق(إلی قوله)فهو منهم- (13 / 96) والله أعلم بالصواب!