کیا عورت کے لئے بال کٹوانا جائز ہے؟
گھنے اور لمبے بال عورتوں کے لیے باعث زینت ہیں،اور تفسیرروح البیان کے مطابق آسمانوں میں بعض فرشتوں کی تسبیح کے الفاظ میں عورتوں کے بالوں کا ذکر بھی ان الفاظ کے ساتھ ملتاہے:''پاک ہے وہ ذات جس نے مردوں کو داڑھی سے زینت بخشی ہے اورعورتوں کو چوٹیوں سے ''۔
اس لیے عورتوں کابلاعذر سر کے بالوں کو کاٹنااور مردوں کی مشابہت اختیار کرناشرعاجائز نہیں، بلکہ ایسی عورتوں پررسول اکرم علیہ الصلاۃ والسلام نے لعنت فرمائی ہے۔چنانچہ مشکاۃ شریف کی روایت ہے:''حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالی کی لعنت ہے ان مردوں پر جو عورتوں کی مشابہت اختیارکرتے ہیں اور ان عورتوں پر جومردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں''۔
البتہ اگر شرعی عذر ہو مثلاً : علاج کی غرض سے بال کٹوانے ہوں یابال اس قدر طویل ہوجائیں کہ عیب دار معلوم ہوں یا اسے سنبھالنامشکل ہو تو فقط زائد بالوں کو بقدرضرورت کاٹناجائز ہوگا۔(تفسیر روح البیان،1/177،ط:داراحیاء التراث-البحرالرائق،8/233،ط:دارالمعرفہ-فتاوی رحیمیہ10/120،ط:دارالاشاعت)