میں سالہا سال سے زیر بغل بال نوچتا آیا ہوں جو کہ مسنون طریقہ ہے، اب حال یہ ہے کہ میرے زیر بغل بال بہت کم ہوگئے ہیں یا مثل روئیں جیسے ہوگئے ہیں اور بہت دیر سے بڑھتے ہیں، اب میں ان کو اس باقاعدگی سے نہیں صاف کرتا جیسے کہ زیر ناف بال ہفتے دو ہفتے میں صاف کرتا ہوں، مہینوں میں کرلیتا ہوں، کیا میرا یہ عمل درست ہے؟ رہنمائی فرمائیں!
میں غسل کے بعد تیل سے جسم کی مالش کرتا ہوں ، جب عضو تناسل کی مالش کرتا ہوں ، تو کبھی بہت معمولی سی رطوبت بھی خارج ہوتی ہے ، مگر اتنی نہیں ہوتی کہ نکل کر بہہ جائے، معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا اگر رطوبت خارج ہو ،تو دوبارہ غسل / وضو کرنا پڑے گا؟
سائل کے بغل کے بال اگر بہت ہی کم (نہ ہونے کے برابر) ہوگئے ہوں یا بہت تاخیر سے اُگتے ہوں ، تو ہر ہفتے یا دو ہفتے میں اِنہیں باقاعدگی سے صاف کرنا کوئی ضروری نہیں ،بلکہ جب بال اس قدر بڑھ جائیں کہ نوچنے کے قابل ہوجائیں ، تو پھر ان کی صفائی ستھرائی کا اہتمام کرنا چاہیئے۔
جبکہ غسل کے بعد جسم کی مالش کے دوران عضو تناسل سے جو رطوبت خارج ہوتی ہے ، اگرچہ وہ بہہ کر نکلنے کی قابل نہیں ہوتی،تب بھی اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ،لہٰذا اس کے بعد سائل پر نماز وغیرہ کیلئے وضو کرنا لازم ہے۔
کما فی الشامیة: تحت : (قوله: مجرد الظهور) من إضافة الصفة إلی الموصوف: أی الظهور المجرد عن السیلان، فلو نزل البول إلی قصبة الذكر لا ینقض لعدم ظهوره، بخلاف القلفة فإنه بنزوله إلیها ینقض الوضوء، الخ (١٣٥/١) والله اعلم