کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں جاننا چاہتا ہوں کہ کیا کوئی حدیث حضرت عائشہؓ یا کسی اور صحابیہ سے متعلق ہے کہ وہ اپنے سر کے بال کتنے بڑے رکھتی تھیں؟
مسلم شریف کی ایک حدیث میں ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کا سر کے بالوں کو کندھوں تک یا اُس سے کچھ زیادہ تک رکھنے اور باقی زائد اور لمبے بالوں کے کاٹنے کا ذکر ہے مگر اس حدیث کو دلیل بناکر مروّجہ فیشن نما بالوں کی کٹنگ کو جائز قرار دینا قطعاً جائز نہیں، اوّلاً تو اس بناء پر کہ اس میں ’’تشبہ بالرّجال‘‘ ہے جس کی حرمت نصوصِ شرعیہ میں واضح طور پر بیان کی گئی ہے، ثانیاً اس وجہ سے کہ راوی نے اپنا مشاہدہ بیان نہیں کیا اور نہ یہ راوی ازواجِ مطہرات کے محرم ہیں اور نہ ہی تحقیق کے بعد یہ فرمایا، کیونکہ بسا اوقات عورتیں اپنے بالوں میں تداخل کرلیتی ہیں کہ دیکھنے والے کو چھوٹے نظر آتے ہیں اور تخفیفِ شعور کا شبہ ہوجاتا ہے لہٰذا عورتوں کو اس طرح بال چھوٹے کرنے سے احتراز لازم ہے۔
البتہ اگر بالوں کی کوئی ایسی بیماری اور مرض لاحق ہوجائے کہ جس کی بناء پر ان کا ازالہ ناگزیر ہو تو اس صورت میں بقدرِ ضرورت ان کے ازالہ کی شرعاً بھی گنجائش ہے مگر جیسے ہی یہ عذر ختم ہوگا تو اجازت بھی ختم ہوجاے گی۔
وفی صحیح مسلم: وکان ازواج النّبی ﷺ یأخذن من رُؤسہنّ حتی تکون کالوفرہ، قال النووی الوفرۃ اشبع واکثر من اللّمۃ واللّمۃ ما یلم بالمنکبین من الشعر۔ (ج۱، ص۱۴۸)-
وعن ابن عباسؓ قال لعن رسول اﷲ ﷺ المتشبہات بالرّجال من النّساء والمتشبّہین با النّساء من الرّجال، ہذا حدیث حسن صحیح، رواہ الترمذی۔ (ج۲، ص۱۰۶)-
وفی در المختار: قطعت شعر رائسہا أثمت ولعنت، زاد فی البزازیہ، وإن بإذن الزوج لأنہ لا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق، ولذا یحرم علی الرّجل قطع لحیتہ، والمعنی المؤثر التشبّہ بالرّجال۔ (ج۶، ص۴۰۷)-