بعد از سلام عرض گذارش ہے کہ انگریزی طریقہ پر بال کٹوانا جائز ہے یا نہیں؟ بلکہ بہشتی گوہر میں لکھا ہوا ہے کہ بعض بال کاٹنا اور بعض چھوڑنا جائزنہیں، لیکن آج کل یہ کہتے ہیں کہ وہ پرانا دور تھا، اب جدید دور ہے، انگریزی طریقہ پر نہ کٹواؤ تو بندہ برا لگتا ہے، اس لۓ آج کل انگریزی طریقے پر بال کٹوائے جاتے ہیں۔
احادیثِ مبارکہ میں نبی کریم ﷺسے بال رکھنے کے جو طریقے منقول ہیں، وہ یہ ہیں:
(1) وفرہ (کانوں کی لو تک )، (2) لمہ (گردن تک)، (3) جمہ (کندھوں تک )،(4) حج کے موقع پر سر مبارک منڈانا بھی ثابت ہے۔
لہٰذا مسنون یہ ہے کہ پورے سرپر یکساں بال رکھے جائیں، یا سب کے سب منڈوائے جائیں، یا پھر تمام بال مساوی طور پر کٹوادیئے جائیں ،سر کے بعض حصے کے بال کٹوادینا اور بعض حصے کے چھوڑدینا (جیسا کہ آج کل فیشن کے طور پر کٹ کروایا جاتا ہے) خلافِ سنت ہے، جس کے بارے میں احادیثِ مبارکہ میں صراحت کیساتھ ممانعت آئی ہے، اور ایسے بال رکھنے میں کفار اور فساق وفجار کی مشابہت بھی لازم آتی ہے، اس لۓ اس سے احترازکرنا لازم ہے۔
فی صحیح البخاری: قال: نافع کان ابن عمر - رضی اللہ عنھما - یقول: حلق رسول اللہ - صلی اللہ علیه و سلم- فی حجته ۔اھ(ج2 174)۔
فی سنن ابن ماجة: حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة وعلي بن محمد قالا حدثنا أبو أسامة عن عبيد الله ابن عمر عن عمر بن نافع عن نافع عن ابن عمر قال نهى رسول الله - صلى الله عليه و سلم - عن القزع قال وما القزع ؟ قال ان يحلق من رأس الصبي مكانا ويترك مكانا .اھ(2ص1201)۔
وفی مشکوة المصابیح: وعن ابن عمر: أن النبي - صلى الله عليه وسلم- رأى صبيا قد حلق بعض رأسه وترك بعضه فنهاهم عن ذلك وقال: " احلقوا كله أو اتركوا كله ". رواه مسلم (ج2ص504)۔
وفی شرح مسلم للنووی: قوله: (كان رسول الله - صلي الله عليه وسلم - مربوعا ) هو بمعنى قوله في الرواية الثانية ليس بالطويل ولا بالقصير (الي قوله) (عظيم الجمة إلى شحمة أذنيه) وفي رواية ما رأيت من ذي لمة أحسن منه وفي رواية كان يضرب شعره منكبيه وفي رواية إلى أنصاف أذنيه وفي رواية بين أذنيه وعاتقه قال أهل اللغة الجمة أكثر من الوفرة فالجمة الشعر الذي نزل إلى المنكبين والوفرة مانزل إلى شحمة الأذنين واللمة التي ألمت بالمنكبين قال القاضي والجمع بين هذه الروايات أن ما يلى الأذن هو الذي يبلغ شحمة أذنيه وهو الذي بين أذنيه وعاتقه وما خلفه هو الذي يضرب منكبيه اھ (2/258)۔