مباحات

خواتین کا ویکس کے ذریعہ بال اتارنا اور ابرووں بنانا

فتوی نمبر :
22094
| تاریخ :
2014-05-21
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

خواتین کا ویکس کے ذریعہ بال اتارنا اور ابرووں بنانا

السلام علیکم! مفتی صاحب! معلوم یہ کرنا ہے کہ خواتین کا ویکس کے ذریعہ بال اتارنا صحیح ہے یا نہیں؟ اور بھوؤں کے بارے میں بھی صحیح راہ نمائی فرما دیں، میری نئی شادی ہونی ہے، اس لیے یہ مسائل سامنے آئیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ خواتین کے لیے ویکس کے ذریعہ چہرے کے بال اتارنا بلاشبہ جائز اور درست ہے۔ پھر واضح ہو کہ اگر کسی عورت کے ابرووں کے بال بڑے اور موٹے موٹے ہوں یااس کی داڑھی اور مونچھیں نکل آئی ہوں اور شوہر ان بالوں کی بناء پر اس سے نفرت کرتا ہو تو محض شوہر کو خوش کرنے اور اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے وہ ان بالوں کو صاف کر سکتی ہے، مگر ابرو بنانے اور بال صاف کرنے میں اتنا مبالغہ نہ کرے کہ ہیجڑے کے ساتھ مشابہت ہونے لگے، جبکہ غیر شادی شدہ عورت کو مذکور امور اختیار کرنے سے احتراز چاہیے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی حاشية ابن عابدين: (قوله والنامصة إلخ) (إلی قوله) ولعله محمول على ما إذا فعلته لتتزين للأجانب، وإلا فلو كان في وجهها شعر ينفر زوجها عنها بسببه، ففي تحريم إزالته بعد، لأن الزينة للنساء مطلوبة للتحسين، إلا أن يحمل على ما لا ضرورة إليه لما في نتفه بالمنماص من الإيذاء. وفي تبيين المحارم إزالة الشعر من الوجه حرام إلا إذا نبت للمرأة لحية أو شوارب فلا تحرم إزالته بل تستحب اهـ، وفي التتارخانية عن المضمرات: ولا بأس بأخذ الحاجبين وشعر وجهه ما لم يشبه المخنث اهـ (6/ 373)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
مریدان ارشد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 22094کی تصدیق کریں
0     649
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات