اسلامی پروگراموں کی ویڈیو کے متعلق کیا حکم ہے، جیسے میلاد شریف ، ختم قرآن ، طلبہ کی دستا بندی کے پروگراموں کی ویڈیوز؟ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ جائز ہے۔
واضح ہوکہ کہ ایسی مجلس جو خالص دینی اور علمی ہو، اور مرد و زن کے مخلوط ماحول سے پاک ہو، تو چونکہ ویڈیو میں نظر آنے والی شکلوں کا بعض محققین علماء کے نزدیک فنی اعتبار سے تصور ہونا محل نظر ہے ،اس لیے اس کے بنانے کی گنجائش ہے، مگر اس طرز عمل سے غیر شرعی امور پر مشتمل ویڈیوز بنانے والوں کی حوصلہ افزائی ضرور ہوگی، اس لیے اس سے احترازکیا جائے تو بہتر ہے، البتہ اگر محض ریکارڈنگ کرنا مقصود ہو تو بلاشبہ جائز ہے۔
کما فی تکملة فتح الملھم: ولکن ھل یتأتی فیھما حکم التصویر بحیث اذا کان التلفزیون او الفیدیو خالیا من ھذہ المنکرات باسرھا، ھل یحوم بالنظر الی کونہ تصویرا؟ فان لھذا العبد الضعیف عفا اللہ عنہ فیہ وقفة، وذالک لان الصورۃ المحرمة ما کانت منقوشة او منحوتہ بحیث یصبح لھا صفة الاستقرار علی شئی وھی الصورۃ التی کان الکفار یستعملونھا للعبادۃ اما الصورۃ التی لیس لھا ثبات واستقرار ولیست منقوشة علی شئی بصفة دائمة فانھا بالظل اشبہ منھا بالصورۃ الخ (4/164)۔