مولانا صاحب کیا فرماتے ہیں علماءِ دین اس مسئلے کے بارے میں کہ زید اور بکر دو کاروباری حضرات ہیں، وہ اپنا کاروبار کچھ اس طرح کرتے ہیں کہ مثلاً زید کو اپنی کاروبار کی ترقی کے لئے پیسے کی ضرورت ہے، وہ بکر سے پیسے کا مطالبہ کرتا ہے، بکر مارکیٹ سے دراہم خرید کر زید پر کچھ منافع کے ساتھ فروخت کرتا ہے، زید کی خواہش کے مطابق وہ ٹوٹل رقم ماہانہ قسطوں کے حساب سے ادا کرے گا ،کیونکہ قسط میں ان کو آسانی ہو گی۔ کیا یہ سوداشریعت میں جائز ہے؟ مثال کے طور پر بکر ایک لاکھ روپے پر چار ہزار دراہم خرید کر زید پر ایک لاکھ ستائس ہزار روپے پر فروخت کرتا ہے، زید نے دراہم قبول کیے اور خوش بھی تھا، لیکن اس نے بکر سے مطالبہ کیا کہ میرے لئے قسط مقرر کریں , میں ماہانہ تین ہزار روپے ادا کروں گا۔ اس طرح زید ایک لاکھ ستائیس ہزار روپے ماہانہ تین ہزار قسط کے حساب سے ادا کرتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ رقم پوری ہو جائے۔ کیا یہ سودا جائز ہے ؟ جنس مختلف ہو تو ہم ایک چیز کو قسطوں پر زیادہ قیمت پر فروخت کر سکتے ہیں؟ کیا دراہم اور روپے مختلف جنس نہیں؟ اس میں تفاضل کا کیا حکم ہے ؟ اور قسط کا کیا حکم ہیں ؟ مندرجہ بالا سودے میں بکر اگر در اہم کے بجائے موٹر کار خریدے اور پھر زید پر ایک لاکھ ستائیس ہزار روپے پر قسطوں کے حساب سے فروخت کر دے، تو زید کا اصل مقصد روپے ہے جو وہ کاروبار میں لگانا چاہتا ہے موٹر نہیں، لہٰذا اس صورت میں وہ اگر موٹر کی جگہ دراہم خریدیں تو اس صورت میں زید کو کرنسی تبدیل کرنے میں آسانی ہے بجائےیہ کہ وہ موٹر کار خریدے لہٰذا دراہم کی صورت میں تفاضل اور قسط کا کیا حکم ہے؟ مسئلے کی تفصیلی وضاحت فرمائیں۔ بہت شکریہ!
مختلف ممالک کی کرنسیاں مختلف اجناس شمار ہوتی ہیں، ان کے درمیان کمی زیادتی اور ادھار کے ساتھ تبادلہ جائز ہے، چنانچہ چار ہزار دراہم کو ایک لاکھ ستائیس ہزار روپے کے بدلے نقد اور ادھار قسطوں پر بیچنا جائز ہے، اس طرح موٹر کار خرید کر ادھار قسطوں پر فروخت کرنا بھی جائز ہے ،بشرطیکہ ادھار فروخت کرنے کی صورت میں شرائط فاسدہ نہ لگائی جائیں۔
كما في المبسوط للسرخسي: وإذا اشترى الرجل فلوسا بدراهم ونقد الثمن، ولم تكن الفلوس عند البائع فالبيع جائز؛ لأن الفلوس الرائجة ثمن كالنقود، وقد بينا أن حكم العقد في الثمن وجوبها ووجودها معا، ولا يشترط قيامها في ملك بائعها لصحة العقد كما يشترط ذلك في الدراهم والدنانير اھ (14/ 24) -