مباحات

عورتوں کے لئے بھی زائد بال صاف کرنے کا حکم ہے یا نہیں؟

فتوی نمبر :
27366
| تاریخ :
0000-00-00
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

عورتوں کے لئے بھی زائد بال صاف کرنے کا حکم ہے یا نہیں؟

جس طرح مرد حضرات کو زیرِ ناف بال صاف کرنے کا حکم ہے ، اسی طرح خواتین کے بارے میں کیا حکم ہے؟ اور ان کو کیسے بال ختم کرنے چاہیئے؟مطلب کسی میڈیسن سے یا آلہ سے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

بغل اور زیرِ ناف بالوں کی صفائی کے حکم میں مرد اور عورت دونوں برابر ہیں ، البتہ خواتین کے لئے بہتر یہ ہے کہ وہ استرے کےبجائے نوچنے یا بال صفا کریم وغیرہ سے بالوں کو صاف کیا کریں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار : (و) يستحب (حلق عانته و تنظيف بدنه بالاغتسال في كل أسبوع مرة) و الأفضل يوم الجمعة و جاز في كل خمسة عشرة و كره تركه وراء الأربعين مجتبى الخ
و في رد المحتار : (قوله و يستحب حلق عانته) قال في الهندية و يبتدئ من تحت السرة و لو عالج بالنورة يجوز كذا في الغرائب و في الأشباه و السنة في عانة المرأة النتف (قوله وتنظيف بدنه) بنحو إزالة الشعر من إبطيه و يجوز فيه الحلق و النتف أولى اھ (6/ 406)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 27366کی تصدیق کریں
0     732
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات