میری زمین پر کوئی ناجائز قبضہ کر رہا ہے، اس صورت میں اگر میں اپنے حق کے لئے جان دیدوں تو کیا یہ جائز موت ہوگی؟
سائل کو چاہیئے کہ اپنے حق کی وصولیابی کے لئے قانونی راستہ اختیار کرے، یا علاقے کے بااثر افراد کو بیچ میں لاکر مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرے، اور ممکنہ حد تک قتل و قتال اور لڑائی جھگڑے سے اجتناب کرے، تاہم اگر تمام تر قانونی کوششوں کے باوجود قتل وقتال کی نوبت آئے تو سائل کے لئے اپنے حق کی وصولیابی کے لئے اسکی بھی گنجائش ہے۔
کما فی مرقاۃ المفاتیح: وعن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ( «من قتل دون ماله فهو شهيد» ) . متفق عليه
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: «جاء رجل فقال: يا رسول الله أرأيت إن جاء رجل يريد أخذ مالي؟ قال: (فلا تعطه مالك) قال: أرأيت إن قاتلني؟ قال: (قاتله) . قال: أرأيت إن قتلني؟ قال: (فأنت شهيد) . قال: أرأيت إن قتلته؟ قال: (هو في النار» ) رواه مسلم (ج6 صـ2297 ط: دار الفکر)۔
وفیھا ایضاً: وعامة العلماء على أن الرجل إذا قصد ماله أو دمه أو أهله فله دفع القاصد بالأحسن، فإن لم يمتنع إلا بالمقاتلة فقتله فلا شيء عليه الخ (ج6 صـ2305 ط: دار الفکر9۔
وفی الدر المختار: (ويجوز أن يقاتل دون ماله وإن لم يبلغ نصابا ويقتل من يقاتله عليه) لإطلاق الحديث «من قتل دون ماله فهو شهيد» فتح الخ (ج4 صـ117 باب قطع الطریق ط: دار الفکر)۔