میری تین سال کی بیٹی ہے جس کا نام ہم نے امثال رکھا ،مگر اس کی بیماری کی وجہ سے ہم اس کا نام تبدیل کر کے عدن رکھ رہے ہیں ، کیا یہ نام رکھنے میں کوئی شرعی حرج تو نہیں ہے، کچھ لوگ کہتے ہیں کہ عدن لڑکوں کا نام ہے۔ مہربانی فرما کر مذکورہ نام کے سلسلے میں راہ نمائی فرمائیں۔
صحت بیماری کا تعلق نام سے نہیں بلکہ یہ ایک عارضہ ہے جو کسی بھی نام والے کو پیش آسکتا ہے، تاہم سائل اپنی بیٹی کا نام تبدیل کر کے عدن رکھنا چاہے تو یہ بھی درست ہے اور ’’عدن‘‘ کے معنی بہشت کے آتے ہیں۔
کما في مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح: وعن ابن عباس - رضي الله عنهما - قال: " «كانت جويرية اسمها برة، فحول رسول الله - صلى الله عليه وسلم - اسمها جويرية، وكان يكره أن يقال: خرج من عند برة» رواه مسلم (7/ 2999)