کیا فرماتے ہیں! علماءِ دین و مفتیانِ شرع متین! درمیان مسئلہ ہذا کے کہ ہمارے یہاں تراویح میں ختمِ قرآن کے موقع پر باقاعدہ سوشل میڈیا وغیرہ کے ذریعے دعا کی تشہیر کی جاتی ہے،اور خواتین کو اس میں شرکت کی دعوت دی جاتی ہے،کیا ایسا کرنا درست ہے؟ ختم القرآن کے موقع پر اس طرح کی دعوت چلانے کا شرعاً کیا حکم ہے؟ براہ کرم مدلل جواب عنایت فرمائیں۔
رمضان المبارک چونکہ نزولِ رحمت کا مہینہ ہے،جس میں ختمِ قرآن کے بابرکت موقع پر دعا کرنا ایک مستحسن عمل ہے،اور ختمِ قرآن کریم کا موقع قبولیتِ دعا کے مواقع میں سے بھی ہے،لیکن اس کے لئے سوشل میڈیا پرغیر معمولی طریقہ سے تشہیر کرنا اور خواتین کو ختمِ قرآن کی مجلس میں شرکت کی دعوت دینا شرعاً درست نہیں،اس سے احتراز لازم ہے۔
کمافي المصنف لابن أبي شيبة: عن انس انه كان اذا ختم جمع اھله اھ
وفيه ايضاً:عن الحكم قال كان مجاهد وعبدة بنى أبي لبابة وناس يعرضون المصاحب فلما كان اليوم الذي ارادو ان يختموا ارسلو إلى والى سلمة بن كهيل فقالوا انا كنا نعرض المصاحف فاردنا ان نختم اليوم فأجبنا أن تشهدونا انه كان يقال: اذا ختم القرآن نزلت رحمة عند خاتمته أو حضرت الرحمة عند خاتمته اھ (15/471) ۔