ایک عمومی سڑک پر گاڑیوں کے تیز رفتاری کی وجہ سے بریکر لگانا کیسا ہے؟ جواب مع حوالہ جات ارسال فرمائیں، عین نوازش ہو گی اور تھوڑا جلد ارسال فرمائیں۔
عام سڑک پر بریکر لگانا اگر لوگوں کی تکلیف اور گاڑیوں کے نقصان کا باعث ہو یا جگہ جگہ اس کا بنانا (جیسا کہ رواج بن گیا ہے) ٹریفک قوانین کے خلاف ہو تو کسی فرد کا قانونی منظوری کے بغیر وہاں بریکر لگانا جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے، البتہ اگر کسی جگہ پر گاڑیوں کی تیز رفتاری کی وجہ سے مقامی رہائیشیوں یا ان کے مویشیوں کو نقصان کا شدید اندیشہ ہو تو وہاں سرکاری ذمہ داروں پر لازم ہے کہ متوقع نقصان سے لوگوں کو بچانے کے لیے بریکر وغیرہ کے ذریعہ مناسب تدبیر کرنے کی فکر کریں۔
ففي الدر المختار: (أخرج إلى طريق العامة كنيفا) هو بيت الخلاء (أو ميزابا أو جرصنا كبرج وجذع وممر علو وحوض طاقة ونحوها عيني أو دكانا جاز) إحداثه (وإن لم يضر بالعامة) ولم يمنع منه، فإن ضر لم يحل اھ (6/ 592)
وفيه ايضا : (لو حفر بئرا في طريق أو وضع حجرا) أو ترابا أو طينا ملتقى (فتلف به إنسان) لأنه سبب (فإن تلف به) أي بواحد من المذكورات (بهيمة ضمن) في ماله (إن لم يأذن به الإمام فإن أذن) الإمام (في ذلك أو مات واقع في بئر طريق جوعا أو عطشا أو غما لا) ضمان به يفتى اھ (6/ 594)
و في البحر الرائق شرح كنز الدقائق: أما الإحداث فقال شمس الأئمة إن كان الإحداث يضر بأهل الطريق فليس له أن يحدث ذلك، وإن كان لا يضر بأحد لسعة الطريق جاز له إحداثه فيه ما لم يمنع منه؛ لأن الانتفاع في الطريق بغير أن يضر بأحد جائز اھ (8/ 395) واللہ اعلم بالصواب