مباحات

غیر نبی کے خواب کا حکم

فتوی نمبر :
36495
| تاریخ :
2019-01-22
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

غیر نبی کے خواب کا حکم

کیا خواب میں اللہ کا دیا ہوا حکم نہ ماننے سے ایک مسلمان کافر ہو جاتا ہے؟ میں نے خواب دیکھا , ایک عورت کہہ رہی ہےکہ اللہ کہہ رہا ہے ،اس کو چھوڑنا نہیں وہ میری بیوی کی طرف اشارہ ہے، میرا میری بیوی سے خلع کا مقدمہ چل رہا ہے، اور وہ کردار کی بھی ٹھیک نہیں اور یہ بات شائع ہونے پر معاملات خراب ہوئے , وہ گھر چھوڑ کر چلی گئی اور بعد میں خلع کا مقدمہ دائر کیا، اور اب صلح بھی چاہتی ہے اتنی ذلالت کے بعد میں رکھنا نہیں چاہتا ، اب مسئلہ یہ ہے کہ کیا خواب میں دیا گیا اللہ کا حکم ماننا ضروری ہے ؟اور اگر نہ مانا جائے تو کافر ہو جاؤں گا ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

غیر نبی کا خواب چونکہ حجت نہیں ،اس لئے سائل کا اس خواب پر عمل کرنا لازم نہیں ،اور نہ اس خواب کے خلاف کرنے سے وہ حکم ِخداوندی کا منکر ٹھہرے گا، تا ہم سائل کی بیوی اگر اپنے کیے پر نادم ہو اور تائب ہو کر آئندہ ایسا کرنے سے اجتناب کا عزم رکھتی ہو، اور سائل کو بھی اس پر اعتماد د ہو تو شرعاً اس کو طلاق دینا لازم نہیں بلکہ صلح کر کے ساتھ رکھنے کی بھی گنجائش ہے اس لئے بلاوجہ جذباتی فیصلہ کرنےسے اجتناب چاہئے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في رد المحتار: تحت (قوله ثم رؤيا عبد الله بن زيد الخ) بان رؤيا غير الانبياء لا يبنى عليها حكم شرعي اھ (ج 1/ص 383)
وفيه ايضاً: (وقيل) قائله الكمال الأصح حظره (أى منعه إلا لحاجة كريبة وكبر اھ(ج 3 ص 338)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 36495کی تصدیق کریں
0     575
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات