میں اہلِ سنت مسلک سے تعلق رکھتی ہوں، مجھے استخارہ کا مسئلہ معلوم کرنا ہے، استخارہ اگر شادی کے بارے میں کروایا جائے اور جواب ہاں یا نہ میں آئے تو کیا اس ہاں یا نہ پر عمل کرنا لازمی ہے یا ہم کوئی اور فیصلہ کر سکتے ہیں اور اس کا آنے والی زندگی میں کوئی برا اثر تو نہیں پڑیگا؟
واضح ہو کہ استخارہ اللہ تعالیٰ سے کسی کام میں خیر طلب کرنے کا نام ہے، اس سے کوئی چیز لازم نہیں ہوتی، لہٰذا استخارہ میں جس پہلو کو اختیار کرنے پر دل کا اطمینان ہو، اگر کسی نے اس کے خلاف کوئی اور پہلو اختیار کیا تو اگرچہ اس میں بھی شرعاً کوئی حرج تو نہیں، مگر کسی معاملہ میں استخارہ کرنے کے بعد اس کے کرنے یا نہ کرنے کا اشارہ ملے تو بہتر یہ ہے کہ اس کے مطابق عمل کیا جائے اسی میں ان شاء اللہ خیر ہوگی۔
کما في مرقاة المفاتيح: (وعن جابر، قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعلمنا الاستخارة)، أي: طلب تيسر الخير فی الأمرين من الفعل، أو الترك من الخير وهو ضد الشر. (فی الأمور) ، أي: التي نريد الإقدام عليها مباحة كانت أو عبادة، لكن بالنسبة إلى إيقاع العبادة فی وقتها وكيفیتها لا بالنسبة إلى أصل فعلها. (كما يعلمنا السورة من القرآن) :وهذا يدل على شدة الاعتناء بهذا الدعاء اھ (3/985)
وفي رد المحتار (قوله ومنها ركعتا الاستخارة) (إلى قوله) وفي شرح الشرعة: المسموع من المشايخ أنه ينبغي أن ينام على طهارة مستقبل القبلة بعد قراءة الدعاء المذكور، فإن رأى منامه بياضا أو خضرة فذلك الأمر خير، وإن رأى فیه سوادا أو حمرة فهو شر ينبغي أن يجتنب اهـ.(2/26)
نیک عمل مکمل کرنے سے قبل اگر نیت خالص کر لی جائے تو وہ عمل ریاکاری میں شمار ہوگا یا نہیں؟
یونیکوڈ استخارہ 0کتنا علم حاصل کرنا فرض ہے؟ نیز فحش باتوں اور ناجائز امور کا گناہ کب تک ملتا رہے گا؟
یونیکوڈ استخارہ 0غیر مسلموں کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھنا تو حرام البتہ اتفاقا ساتھ کھانا بہ امرِ مجبوری جائز ہے
یونیکوڈ استخارہ 0برکت کے لیے طلباء اور علماء کو گھر لے جا کر دعا اور قرآن بخشوانا اور کھانا کھلانا
یونیکوڈ استخارہ 0