گناہ و ناجائز

فاریکس ٹریڈنگ حلال ہے یا حرام؟

فتوی نمبر :
37658
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

فاریکس ٹریڈنگ حلال ہے یا حرام؟

سوال یہ ہے کہ فاریکس ٹریڈنگ حلال ہے یا حرام؟ ایک مسلمان اس مارکیٹ میں تجارت کر سکتا ہے یا نہیں ؟ اگر یہ حرام ہے ،تو کن طریقوں کو اپنا کر انسان اسے حلال بنا سکتا ہے ؟ تفصیلات واضح کر دیجیے، تہہ دل سے آپ کا شکر گزار ہوں گا -

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

فاریکس ٹریڈنگ قمار کی ایک قسم ہے، جس میں عام طور پر خرید فروخت مقصود نہیں ہوتی، بلکہ فرق برابر کر کے نفع کمانا مقصود ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس کا روبار میں قبضہ کے بغیر ہی وہ چیز آگے بیچ دی جاتی ہے، جو شرعاً جائز نہیں ،اس لئے عام حالات میں تو یہ کاروبار قطعاً درست نہیں، جس سے احتراز لازم ہے، تاہم اگر کسی شخص کا کوئی وکیل اس طرح کے سامان پر قبضہ کر کے آگے بیچ دے ،تو بلا شبہ اس کا نفع بھی حلال ہوگا ،مگر اس کا روبار میں عموماً ایسا نہیں ہوتا، اس لئے اس سے احتراز لازم ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي مشكاة المصابيح: عن ابن عباس قال: أما الذي نهى عنه النبي صلى الله عليه وسلم فهو الطعام أن يباع حتى يقبض. قال ابن عباس: ولا أحسب كل شيء إلا مثله (متفق عليه) (2/ 863)۔
وفي مرقاة المفاتيح: تحت قوله (كل شيء إلا مثله) أي مثل الطعام في أنه لا يجوز للمشتري أن يبيعه حتى يقبضه اھ(5/ 1931)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
مفتی احمد یوسف عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 37658کی تصدیق کریں
0     405
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات