محترم میں یہ سوال کرنا چاہتا ہوں کہ کیاخاتون کے لیے جائز ہے کہ ڈاکٹر کی حیثیت سے ہسپتال میں کام کریں جہاں اس کو مرد حضرات کو چیک کرنا پڑتا ہے اور کبھی کبھی ان کو علاج کی غرض سے ٹچ بھی کرنا پڑھتا ہے، اس کا لباس چھوٹا دوپٹہ اور پول ساڑی ہے اوپر سے نیچے تک مکمل جسم چھپا ہوا ہے مثال کے طور پر پاکستان آرمی کی لیڈی ڈاکٹر ۔
خواتین کے لیے کسی ہسپتال میں بطور ڈاکٹر کام کرنا جائز ہے بشرطیکہ مکمل شرعی پردہ اور احکام شرعیہ کی پابندی کے ساتھ اپنا کام سرانجام دے اور آنے جانے کے راستے بھی محفوظ ہوں ۔
كما في الدر المختار: (وتمنع) المرأة الشابة (من كشف الوجه بين رجال) لا لأنه عورة بل (لخوف الفتنة) كمسه وإن أمن الشهوة لأنه أغلظ اھ (1/ 406)
و في الدر المختار أیضا: (ويعزر المولى عبده والزوج زوجته) (الى قوله) أو كشفت وجهها لغير محرم اھ (4/ 77) والله اعلم بالصواب