گناہ و ناجائز

پیشاب کی تھیلی خالی کرتے ہوئے ہاتھ کو کچھ قطرے لگنے سے گناہ ہوگا؟

فتوی نمبر :
4063
| تاریخ :
2008-03-22
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

پیشاب کی تھیلی خالی کرتے ہوئے ہاتھ کو کچھ قطرے لگنے سے گناہ ہوگا؟

میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ اگر پیشاب کی تھیلی (جو کہ میری والدہ کے ساتھ لگی ہوئی ہے) کو خالی کرتے ہوئے کچھ پیشاب میرے ہاتھ کو لگ جائے تو یہ گناہ ہے یا نہیں؟ براہِ مہربانی مجھے جلدی جواب دیجئے کیونکہ میں اس بارے میں بہت فکر مند ہوں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

والدہ کی خدمت کرنا بڑی سعادت مندی کی بات اور باعث اجر ہی اجر ہے اس دوران پیشاب کی تھیلی خالی کرتے وقت باوجود احتیا ط کے اگر پیشاب ہاتھ کو لگ جائے تو اس پر بھی اجر ہی ملے گا نہ کہ گناہ لیکن نجاست غلیظہ ہونے کی وجہ سے ہاتھ ضرور دھونے چاہیئے۔

مأخَذُ الفَتوی

قال اللہ تعالی: ﴿ووصینا الإنسان بوالدیہ احسانًا حملتہ امہ کرھا ووضعتہ کرھا﴾ (آیة ۱۵ سورة الاحقاف)
وفی العالمگیریة: کل ما یخرج من بدن الانسان مما یوجب خروجہ الوضوء أو الغسل فھو مغلظ کالغائط والبول والمنی اھ (ج۱، ص۴۶)
وفی رد المحتار: أی فی قولہ ﷺ ’’اتقوا البول فانہ اول ما یحاسب بہ العبد فی القبر‘‘ اھ (رواہ الطبرانی باسناد حسن: ج۱، ص۳۵۰)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
اسد اللہ قیوم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 4063کی تصدیق کریں
0     559
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات