میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ اگر پیشاب کی تھیلی (جو کہ میری والدہ کے ساتھ لگی ہوئی ہے) کو خالی کرتے ہوئے کچھ پیشاب میرے ہاتھ کو لگ جائے تو یہ گناہ ہے یا نہیں؟ براہِ مہربانی مجھے جلدی جواب دیجئے کیونکہ میں اس بارے میں بہت فکر مند ہوں۔
والدہ کی خدمت کرنا بڑی سعادت مندی کی بات اور باعث اجر ہی اجر ہے اس دوران پیشاب کی تھیلی خالی کرتے وقت باوجود احتیا ط کے اگر پیشاب ہاتھ کو لگ جائے تو اس پر بھی اجر ہی ملے گا نہ کہ گناہ لیکن نجاست غلیظہ ہونے کی وجہ سے ہاتھ ضرور دھونے چاہیئے۔
قال اللہ تعالی: ﴿ووصینا الإنسان بوالدیہ احسانًا حملتہ امہ کرھا ووضعتہ کرھا﴾ (آیة ۱۵ سورة الاحقاف)
وفی العالمگیریة: کل ما یخرج من بدن الانسان مما یوجب خروجہ الوضوء أو الغسل فھو مغلظ کالغائط والبول والمنی اھ (ج۱، ص۴۶)
وفی رد المحتار: أی فی قولہ ﷺ ’’اتقوا البول فانہ اول ما یحاسب بہ العبد فی القبر‘‘ اھ (رواہ الطبرانی باسناد حسن: ج۱، ص۳۵۰)