ہمارے گاؤں کی مسجد میں تو سیع کاکام جاری ہے مسجد کی تو سیع کے لئے کھدائی ہورہی ہے مسجد کے تینوں طرف ایک پرانا قبرستان ہے جو کہ وقف ہے جبکہ ایک طرف زرعی زمین ہے زرعی زمین کا ملک مسجد کا ملبہ اپنی زمین میں ڈالنے پر کسی صورت رضامند نہیں کیو نکہ مٹی پتھریلی ہے جس سے اس کی زمین مکمل خراب ہونے کا اندیشہ ہے کیا مسجد کی مٹی اس پرانے قبرستان میں ڈالنا جائز ہے؟
مسجد کی تو سیع کے لئے جگہ کم ہے کیا مسجد کی تو سیع میں قبرستان کا کچھ حصہ شامل کرنا جائز ہے قبرستان وقف ہے اور قبرستان میں دس پندرہ سال سے مردے دفن ہونا بند ہو چکے ہے کیو نکہ اب قبرستان میں مزید مردے دفن کرنے کے لئے جگہ موجود نہیں مذکور ہ صورت میں ہماری رہنمائی فرمائیں۔
گاؤں والے آپ حضرات کے جواب کے منتظر ہیں جواب ارسال فرمائیں تاکہ مزید کام جاری ہوسکے۔
مذکور قبرستان اگر اتنا پرانا ہو کہ اس میں مدفون میتیں مٹی بن چکی ہوں ،اورر اب وہاں مزید تدفین بھی ممکن نہ ہو ،بلکہ وہاں تدفین کا سلسلہ بالکلیہ منقطع ہو چکا ہو،اور آئندہ بھی اس جگہ کو تدفین کے لیے استعما ل کرنے کی توقع نہ ہو تو ایسی صورت میں وقف کی افادیت کو باقی رکھتے ہوئے مسجد کی توسیع کےلئے ان پرانی قبروں کو برابر کرکے مسجد میں شامل کرنے کی بھی گنجائش ہے،ورنہ نہیں،جبکہ مسجد کا ملبہ لوگوں کی آباد زمینوں یا قبرستان میں ڈالنے کے بجائے کسی غیر آ باد ویرانے میں ڈالنا چاہیئے۔
کما فی الدرالمختار: قولهم: شرط الواقف كنص الشارع: أي في المفهوم والدلالة ووجوب العمل به، فيجب عليه خدمة وظيفته أو تركها لمن يعمل، وإلا أثم، لا سيما فيما يلزم بتركها تعطيل الكل اھ(ج4/ص366)۔
وفی رد المحتار:قولهم شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة، ووجوب العمل به قلت: لكن لا يخفى أن هذا إذا علم أن الواقف نفسه شرط ذلك حقيقة أما مجرد كتابة ذلك على ظهر الكتب كما هو العادة فلا يثبت به الشرط وقد أخبرني بعض قوام مدرسة إن واقفها كتب ذلك ليجعل حيلة لمنع إعارة من يخشى منه الضياع والله سبحانه أعلم. . (4/ 366)۔
وفی ردالمحتار:(تتمۃ)قال فی الاحکام:لا باس بان یقبر المسلم فی مقابر المشرکین اذا لم یبق من علاماتھم شیئ کما فی خزانۃ الفتاوی:وان بقی من عظامھم شیئ تنبش وترفع الاثار وتتخذ مسجداً،لما فی روی،ان مسجد النبیﷺ کان قبل مقبرۃ للمشرکین فنبشت کذا فی الواقعات اھ(ج2/ص234)۔
وفی الھندیۃ:مقبرۃ کانت للمشرکین ارادواان یجعلوھا مقبرۃ للمسلمین فان کانت اثآرھم قد اندرست فلا باس بذلک وان بقیت آثارھم بان بقی من عظامھم شیئ ینبش ویقبر ثم یجعل مقبرۃ للمسلمین لان موضع مسجد رسولﷺ کان مقبرۃ واتخذھا مسجداً اھ(ج2/ص468) واللہ اعلم