السلام علیکم کیا ہم اہل کتاب کے علاوہ کسی اور کافر کے ہاتھ کا کھانا کھا سکتے ہیں ؟ مثلاً ہندو ، بدھ یاکسی اور مذہب کے لوگوں کے ہاتھ کا کھانا ؟
غیر مسلموں کے ہاتھ کا بنا ہوا کھانا اگر پاک ، صاف اور حلال ہو تو اس کے کھانے میں حرج نہیں ، مگر اس کی مستقل عادت بنانا مکروہ ہے، جس سے احتراز کرنا چاہئے ۔
ففي سنن أبي داود: عن ابن عباس، قال: " {فكلوا مما ذكر اسم الله عليه} [الأنعام: 118]، {ولا تأكلوا مما لم يذكر اسم الله عليه} [الأنعام: 121]، فنسخ واستثنى من ذلك فقال: {وطعام الذين أوتوا الكتاب حل لكم وطعامكم حل لهم} [المائدة: 5] " (3/ 101)
و في المصنف لإبن أبي شيبه: عن الحسن قال : كان يكره أن يأكل مما طبخ المجوس في قدروهم ، ولم يكن يرى بأسا أن يؤكل من طعامهم مما سوى ذلك سمن أو خبز أو كامخ أو سرار أو لبن . (9/ 117)
و في التاتار خانية : ولا بأس بطعام المجوسى إلا الذبيحة اھ (۱۸/۱۳۹) والله أعلم بالصواب