گناہ و ناجائز

کمپنی کی طرف سے ملنے والے ڈسکاؤنٹ کسٹمر کو نہ دینے کا حکم

فتوی نمبر :
43603
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

کمپنی کی طرف سے ملنے والے ڈسکاؤنٹ کسٹمر کو نہ دینے کا حکم

السلام علیکم
میں ایک کمپنی میں ہوں، وہاں کمپنی نےکچھ چیزیں بیچنے کے لئے دی ہیں ،کچھ چیزوں پر کمپنی مختلف قسم کا ڈسکاونٹ لگاتی ہے، ہم کوشش محنت کر کے کسٹمر کو مطمئن کر کے وہ ڈسکاؤنٹ نہیں دیتے ،وہ ہم لڑکے ڈسکاونٹ والی رقم خود رکھ لیتے ہیں کیا یہ جائز ہے؟کچھ روشنی ڈالیں

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں کمپنی کے ذمہ داران کے علم میں لائے بغیر کمپنی کی طرف سے دیے گئے ڈسکاؤنٹ کی رقم خود رکھنا جائز نہیں، بلکہ ڈسکاؤنٹ کی رقم بھی کمپنی میں جمع کرانا لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما في الدر المختار: الوكيل إذا خالف، إن خلافا إلى خير في الجنس كبع بألف درهم فباعه بألف ومائة نفذ اھ (5/ 521)۔
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله الوكيل إذا خالف) قال في الهامش: وكله أن يبيع عبده بألف وقيمته كذلك ثم زادت قيمته إلى ألفين لا يملك بيعه بألف بزازية اهـ. (5/ 521)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمدوسیم سلیم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 43603کی تصدیق کریں
0     492
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات