السلام علیکم
میں ایک کمپنی میں ہوں، وہاں کمپنی نےکچھ چیزیں بیچنے کے لئے دی ہیں ،کچھ چیزوں پر کمپنی مختلف قسم کا ڈسکاونٹ لگاتی ہے، ہم کوشش محنت کر کے کسٹمر کو مطمئن کر کے وہ ڈسکاؤنٹ نہیں دیتے ،وہ ہم لڑکے ڈسکاونٹ والی رقم خود رکھ لیتے ہیں کیا یہ جائز ہے؟کچھ روشنی ڈالیں
صورتِ مسئولہ میں کمپنی کے ذمہ داران کے علم میں لائے بغیر کمپنی کی طرف سے دیے گئے ڈسکاؤنٹ کی رقم خود رکھنا جائز نہیں، بلکہ ڈسکاؤنٹ کی رقم بھی کمپنی میں جمع کرانا لازم ہے۔
کما في الدر المختار: الوكيل إذا خالف، إن خلافا إلى خير في الجنس كبع بألف درهم فباعه بألف ومائة نفذ اھ (5/ 521)۔
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله الوكيل إذا خالف) قال في الهامش: وكله أن يبيع عبده بألف وقيمته كذلك ثم زادت قيمته إلى ألفين لا يملك بيعه بألف بزازية اهـ. (5/ 521)۔