مباحات

مرحوم مجنون کے نماز و روزوں کا کیا حکم ہے؟

فتوی نمبر :
43818
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

مرحوم مجنون کے نماز و روزوں کا کیا حکم ہے؟

میرا بیٹا پینتالیس (45) سال دماغی معذور رہا، مجنون تھا عاقل نہیں تھا، نہ روزہ، نہ نماز کلمہ تھوڑا تھوڑا ہم پڑھا دیتے تھے ، اچانک ہرٹ فیل ہو گیا اور پتا ہی نہ چلا اتنی آسانی سے روح نکل گئی، پیتالیس (45) سال ماں واش روم لے جاتی اور فراغت کراتی، میں نے کہا کہ یہ تمہیں جنت میں لے جائیگا، جامعہ مسجد کے قاری پیر زادہ صاحب سے پوچھا انہوں نے کہا کہ اس لڑکے پر جب کچھ فرض نہیں تھا، تو آپ فکر نہ کریں، میں چاہتا ہوں کہ آپ کچھ بتا دیں تاکہ مجھے اور اس کی ماں کو صبر آجائیں، اور ہم اسے کس طرح صدقہ جاریہ دیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ مجنون شرعا کسی بھی حکم شرعی کا مکلف نہیں ہوتا، چاہے وہ کسی بھی عمر کو پہنچ جائے، اور مجنون اگر پیدائشی مجنون ہو تو اپنے والدین کے تابع ہو کر مسلمان ہی رہتا ہے، اگر چہ اس نے کلمہ بھی نہ پڑھا ہو، لہذا سائل اور اس کی بیوی کو اپنے بیٹے کے بارے میں بلا وجہ پریشان نہ ہونا چاہیے، جبکہ کوئی بھی ایسا نیک عمل جس کا اثر باقی رہنے والا ہو (جیسے : کنواں کھدوانا یا مسجد بنوانا) کر کے اپنے مرحوم بیٹے کے لیے بخش دیں تو اس کا ثواب مرحوم کو ملتار ہیگا۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي صحيح مسلم: عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: " إذا مات الإنسان انقطع عنه عمله إلا من ثلاثة: إلا من صدقة جارية، أو علم ينتفع به، أو ولد صالح يدعو له " (3/ 1255)۔
و في سنن أبي داود: عن علي عليه السلام، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " رفع القلم عن ثلاثة: عن النائم حتى يستيقظ، وعن الصبي حتى يحتلم، وعن المجنون حتى يعقل "اھ (4/ 141)۔
و في حاشية ابن عابدين: بأن كلا من المجنون والمريض المغلوب على عقله مأجور مثاب مكفر عنه بالمرض، فحكم بالأجر مع انتفاء العقل المستلزم لانتفاء الصبر، ويؤيده خبر الصحيحين «ما يصيب المسلم من نصب ولا وصب ولا هم ولا حزن، ولا أذى ولا غم حتى الشوكة يشاكها إلا كفر الله بها من خطاياه» مع الحديث الصحيح «إذا مرض العبد أو سافر كتب له مثل ما كان يعمله صحيحا مقيما» ففيه أنه يحصل له ثواب مماثل لفعله الذي صدر منه قبل بسبب المرض فضلا من الله تعالى، فمن أصيب وصبر يحصل له ثوابان: لنفس المصيبة والصبر عليها ومن انتفى صبره فإن كان لعذر كجنون فكذلك أو لنحو جزع لم يحصل من ذينك الثوابين شيء اهـ ملخصا. وحاصله اشتراط الصبر للثواب على المصيبة إلا إذا انتفى لعذر كجنون. وأما التكفير بها فهو حاصل بلا شرط اھ (2/ 240)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد جاوید نور عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 43818کی تصدیق کریں
0     7
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات