السلام علیکم! محترم ایک بات کی وضاحت چاہتا ہوں ،برائے مہربانی دین وسنت کی روشنی میں اصلاح فرمائیں شکریہ! ہماری کمپنی ملازم کو کار لون بطور قرض صفر فیصد سود پر دیتی ہے ،جو کہ اس کی تنخواہ سے مہینہ وار کاٹ لیا جاتا ہے، لیکن کمپنی کی شرط یہ ہے کہ جب تک قرض پورا نہیں ہوگا، کار کے مالکانہ حقوق کمپنی کے نام ہوں گے، اس بنیاد پر کمپنی کار کا انشورنس کرواتی ہے، سعودی گورنمنٹ کی طرف سے کم از کم انشورنس کی شرط ہے، لیکن کمپنی ’’ مکمل انشورنس ‘‘کرواتی ہے۔ جبکہ اس انشورنس کے جو پیسے بنتے ہیں، وہ ملازم کو ادا کرنے ہوتے ہیں، اور باقی کام بھی ملازم اپنی طرف سے کرواتا ہے ،گورنمنٹ کی بُک (book) میں مالکانہ حقوق کمپنی کے ہوتے ہیں، برائے کرم اس سلسلہ میں روشنی ڈالیں کہ آیا یہ قرض لینا ٹھیک ہے یا نہیں ؟ فراز احمد
سودی لین دین اگر چہ کسی بھی درجہ کا ہو شرعاً جائز نہیں، تاہم کمپنی نے اگر کار فروخت کر دی ،اور قبضہ دینے کے بعد محض کاغذات اپنے پاس رکھ لئے، تاکہ قسطیں ملنے میں سہولت ہو تو اس میں شرعا کوئی حرج نہیں، مگر انشورنس کروانا اگر گاڑی کو روڈ پر لانے کیلئے قانونی مجبوری نہ ہو تو اس سے احتراز لازم ہے۔
قال للہ تعالیٰ: ﴿وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾ (البقرة: 275)۔
وفي مشكاة المصابيح: عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه و سلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: "هم سواء" . رواه مسلم (2/ 134)۔ واللہ أعلم بالصواب!
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0