مفتی صاحب، میں نے اپنے واٹس ایپ پر جو ڈی پی لگائی اس پر "محمد صل اللہ علیہ وسلم " لکھا ہوا تھا ،لیکن میرے دوست کے پوچھنے پر کہ کیا لگایا ہے ،میں نے کہہ دیا کہ" کچھ خاص نہیں " اور اس جملے کے فورا بعد میں نے یہ بھی کہا کہ خاص ہے، اب سوال یہ ہےکہ کیا پہلے جملے کی وجہ سے آپ ﷺ کی شان میں معاذ اللہ کوئی گستاخی لازم آرہی ہے، حالانکہ میں ایسا کرنے کو کبھی سوچ بھی نہیں سکتا، لیکن چونکہ میں اس طرح کی ڈی پی لگاتا رہتا ہوں، شاید اسی وجہ سے میں نے یہ جملہ " کچھ خاص نہیں" کہہ دیا۔براہ کرم رہنمائی فرمائیں۔
سائل کا اپنے واٹس ایپ پر نبی کریم ﷺ کے نام گرامی کی ڈی پی لگانے کے بعد اپنے دوست کے استفسار پر یہ کہنا "کچھ خاص نہیں" اس سے چونکہ سائل کا قصد واردہ اہانت اور بے ادبی کا نہیں تھا، اس لئے مذکور کلمات سے نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی اور بے ادبی شمار نہ ہو گی، تاہم سائل کو آئندہ ایسے الفاظ کہنے سے احتیاط کرنی چاہیئے۔
کما فی رد المحتار : (قوله من هزل بلفظ كفر) أي تكلم به باختياره غير قاصد معناه، وهذا لا ينافي ما مر من أن الإيمان هو التصديق فقط أو مع الإقرار لأن التصديق، وإن كان موجودا حقيقة لكنه زائل حكما لأن الشارع جعل بعض المعاصي أمارة على عدم وجوده كالهزل المذكور، وكما لو سجد لصنم أو وضع مصحفا في قاذورة فإنه يكفر، وإن كان مصدقا لأن ذلك في حكم التكذيب، كما أفاده في شرح العقائد، وأشار إلى ذلك بقوله للاستخفاف، فإن فعل ذلك استخفاف واستهانة بالدين فهو أمارة عدم التصديق ولذا قال في المسايرة: وبالجملة فقد ضم إلى التصديق بالقلب، أو بالقلب واللسان في تحقيق الإيمان أمور الإخلال بها إخلال بالإيمان اتفاقا، كترك السجود لصنم، وقتل نبي والاستخفاف به، وبالمصحف والكعبة اھ(4/ 222)
و فی البحر الرائق شرح كنز الدقائق : ولاعتبار التعظيم المنافي للاستخفاف كفر الحنفية بألفاظ كثيرة وأفعال تصدر من المتهتكين لدلالتها على الاستخفاف بالدين كالصلاة بلا وضوء عمدا بل بالمواظبة على ترك سنة استخفافا بها بسبب أنه إنما فعلها النبي - صلى الله عليه وسلم - زيادة أو استقباحها كمن استقبح من آخر جعل بعض العمامة تحت حلقه أو إحفاء شاربه اهـ (5/ 129)
آپ علیہ السلام نور ہیں یا بشر؟ اور کیاآپ علیہ السلام اللہ کے نور سے پیدا شدہ ہیں؟
یونیکوڈ رسالت و نبوت 0