ایک سال کے لئے ادھار بیچی گئی چیز پر گاہک کو بتا کر کتنا منافع لینا جائز ہے ؟ نا جائز منافع سے کیا مراد ہے ؟ کتنے پرسنٹ منافع کو ناجائز منافع کہا جائے گا ؟
واضح ہو کہ شریعت نے کاروبار میں منافع کمانے کی کوئی تحدید نہیں کی ہے ، بلکہ یہ فریقین کی رضامندی پر چھوڑا ہے ۔ لہٰذا کوئی چیز ایک سال کے ادھار پر فروخت کرتے وقت بیچنے والا ، خریدار کی رضامندی سے جتنا نفع چاہے وصول کر سکتا ہے ، تاہم مارکیٹ میں رائج مقدار سے بہت زیادہ نفع رکھنا یا خریدار کو دھو کہ دیکر بہت زیادہ نفع وصول کرنا درست نہیں، جس سے اجتناب کرنا چاہیئے ۔
کما في المبسوط للسرخسي: وإذا عقد العقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد (إلی قوله) وهذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم وأتما العقد عليه فهو جائز لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد اھ (13/ 13)۔
وفي فتاوى المعاملات الماليه: ان الربح لا يكون مشروعا وحلالا إلا إذا طابت به نفس العاقدين (إلی قوله) انه لم يرد نص شرعى يحدد القليل الربح أو كثيره فيرجع فيه عرف عملا بالقواعد العامة فى ذلك أن ما لم يرد فيه نص فالمرجع فيه العرف اھ (۶/20) -