السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میں ایک معمار ہوں (بلڈنگ ڈیزائنر) میں ایک فنِ تعمیر کے ادارے میں ملازم ہوں، جہاں ہم کارپوریٹ بلڈنگ کرتے ہیں بشمول بینک کے, جس میں فنِ تعمیر، منصوبہ بندی ، اندرونی ڈیزائن، اور 3 ڈی ریزولیشن (دیواروں پر خاص قسم کی ڈیزائننگ) کیا کسی مسلمان معمار کے لئے جائز ہے کہ وہ بینک کے پروجیکٹس پہ کام کرے ،اور انہیں بہتر سروس فراہم کرے، اور کیا میں اس کو نئی نوکری ملنے تک جاری رکھ سکتا ہوں؟
بینک چاہے اسلامی ہو یا غیر اسلامی ان کی تعمیر وتزیین کا تعلق چونکہ سودی لین دین سے نہیں ہے، نہ ہی اس کا تعلق سود پر گواہی دینے سے ہے، لہذا سائل کے لئے بینک کی تعمیراتی پروجیکٹس پر کام کرنا اور انہیں اچھی سروس فراہم کر کے اس پر اجرت لینا شرعاً درست ہے۔
کما فی رد المحتار: (قوله وجاز تعمير كنيسة) قال في الخانية: ولو آجر نفسه ليعمل في الكنيسة ويعمرها لابأس به لأنه لا معصية في عين العمل الخ (6/391)۔
و فی البحر: لو استاجر المسلم لیبنی لہ بیعۃ او کنیسۃ جازو یطیب لہ الاجر الخ (8/23)۔