مباحات

بینک کی تعمیراتی پروجیکٹس پر کام کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
46445
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

بینک کی تعمیراتی پروجیکٹس پر کام کرنے کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میں ایک معمار ہوں (بلڈنگ ڈیزائنر) میں ایک فنِ تعمیر کے ادارے میں ملازم ہوں، جہاں ہم کارپوریٹ بلڈنگ کرتے ہیں بشمول بینک کے, جس میں فنِ تعمیر، منصوبہ بندی ، اندرونی ڈیزائن، اور 3 ڈی ریزولیشن (دیواروں پر خاص قسم کی ڈیزائننگ) کیا کسی مسلمان معمار کے لئے جائز ہے کہ وہ بینک کے پروجیکٹس پہ کام کرے ،اور انہیں بہتر سروس فراہم کرے، اور کیا میں اس کو نئی نوکری ملنے تک جاری رکھ سکتا ہوں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

بینک چاہے اسلامی ہو یا غیر اسلامی ان کی تعمیر وتزیین کا تعلق چونکہ سودی لین دین سے نہیں ہے، نہ ہی اس کا تعلق سود پر گواہی دینے سے ہے، لہذا سائل کے لئے بینک کی تعمیراتی پروجیکٹس پر کام کرنا اور انہیں اچھی سروس فراہم کر کے اس پر اجرت لینا شرعاً درست ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی رد المحتار: (قوله وجاز تعمير كنيسة) قال في الخانية: ولو آجر نفسه ليعمل في الكنيسة ويعمرها لابأس به لأنه لا معصية في عين العمل الخ (6/391)۔
و فی البحر: لو استاجر المسلم لیبنی لہ بیعۃ او کنیسۃ جازو یطیب لہ الاجر الخ (8/23)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 46445کی تصدیق کریں
0     469
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات